بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

مصحف عثمانی کے تیار ہونے کے بعد حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا اپنے ذاتی مصحفِ قرآنی کو مخفی رکھنے کی وجوہات


سوال

 حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ عرضہ  اخیرہ کى قراءت پڑھتے تھے ، منسوخ حصہ سے واقف اور اسکے شاہد تھے ،اور روایت حفص انہى سے منقول متواتر ہے، تو اس کے ضمن میں دو سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

1: وہ کیا چیز تھی جس کى وجہ سے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے شاگردوں کو نسخے چھپانے کا حکم دیا اور پھر ان کا وظیفہ بند کىا جو بعد میں اکٹھا وصول ہوا؟

2: کوفہ کى ایک عورت نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے کہا کہ میں اپنے نسخہ کو تمھارے نسخے کے مطابق کرنا چاہتی ہوں، ہمارے ہاں تو غیر مرتب پڑھا جاتا ہے ،یہ بات کیسے درست ہے؟

جواب

1- حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جمع قرآن کے بعد حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ناراضگی اور اپنے شاگردوں کو نسخِ قرآنیہ چھپانے کی تاکید جن روایات میں منقول ہیں،ان روایات سے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس اقدام کی دو وجوہات سامنے آتی ہیں:پہلی وجہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کتابت قرآن کے حوالہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جو جماعت تشکیل دی تھی اس میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ شامل نہیں تھے،حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا شمار علوم القرآن پر دسترس رکھنے والے اجلہ صحابہ کرام میں ہوتا تھا،لیکن وہ جمع و کتابت قرآن کے وقت کوفہ میں تھے اور حضرت عثمان اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مدینہ میں یہ خدمت قرآن سر انجام دے رہے تھے،اور یہ حضرات اس کام کو مؤخر نہیں کرنا چاہتے تھے ،اس لیے حضرت عبداللہ مسعود رضی اللہ عنہ کی شرکت نہ ہوسکی اور یہی چیز حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر گراں گزری اور نسخے چھپانے کا حکم دیا۔دوسری وجہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مختلف مصاحف قرآنیہ کے اختلافات کی وجہ سے جب لغتِ قریش کے موافق ایک متفقہ مصحف تیار کروا یا ،تو ساتھ ہی دیگر مصاحف کو نذرآتش کیا یا پھر نذرِآتش کرنے کا حکم دیا،تاکہ پوری امت ایک مصحف کے موافق تلاوت کرے،اور دوبارہ سے مصاحف کا اختلاف جنم نہ لے ،لیکن حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ دیگر مصاحف کو نذرِ آتش کرنے کی بات سے متفق نہ تھے ،کیونکہ ان کے پاس بھی ایک اپنا ذاتی مصحف موجود تھا، جس میں انہوں نے آپ علیہ الصلوات والتسلیمات سےبنفس نفیس  مختلف سورتیں سن کر نقل کررکھی تھیں، چنانچہ ان کے دل نے یہ گوارہ نہ کیا کہ اس نسخہ کو نذرِ آتش کردوں، لہذا  اس نسخہ کو  چھپایا،اور اپنے شاگردوں کو بھی چھپانے کا حکم دیا۔ 

باقی حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ نے اس معاملہ میں اپنے شاگردوں کا وظیفہ بند کیا ہو،ایسا کسی روایت میں تذکرہ نہیں ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن ‌إبراهيم، عن ‌مسروق قال: «ذكر عبد الله بن مسعود عند عبد الله بن عمرو فقال: ذاك رجل لا أزال أحبه،» سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: خذوا القرآن من أربعة: من عبد الله بن مسعود فبدأ به وسالم مولى أبي حذيفة، ومعاذ بن جبل، وأبي بن كعب."

(كتاب مناقب الانصار، باب مناقب أبي ابن كعب رضي الله عنه، رقم الحديث:3808، ج:5، ص:36، ط: دار طوق النجاة)

فتح الباری شرح صحیح  البخاری میں ہے:

"وقد شق على بن مسعود صرفه عن كتابة المصحف حتى قال ما أخرجه الترمذي في آخر حديث إبراهيم بن سعد عن بن شهاب من طريق عبد الرحمن بن مهدي عنه قال بن شهاب فأخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود أن عبد الله بن مسعود كره لزيد بن ثابت نسخ المصاحف وقال يا معشر المسلمين أعزل عن نسخ كتابة المصاحف ويتولاها رجل والله لقد أسلمت وإنه لفي صلب رجل كافر يريد زيد بن ثابت، وأخرج بن أبي داود من طريق خمير بن مالك بالخاء مصغر سمعت بن مسعود يقول لقد أخذت من في رسول الله صلى الله عليه وسلم سبعين سورة وإن زيدا بن ثابت لصبي من الصبيان، ومن طريق أبى وائل عن بن مسعود بضعا وسبعين سورة ومن طريق زر بن حبيش عنه مثله وزاد وإن لزيد بن ثابت ذؤابتين، والعذر لعثمان في ذلك أنه فعله بالمدينة وعبد الله بالكوفة ولم يؤخر ما عزم عليه من ذلك إلى أن يرسل إليه ويحضر وأيضا فإن عثمان إنما أراد نسخ الصحف التي كانت جمعت في عهد أبي بكر وأن يجعلها مصحفا واحدا وكان الذي نسخ ذلك في عهد أبي بكر هو زيد بن ثابت كما تقدم لكونه كان كاتب الوحي فكانت له في ذلك أولية ليست لغيره."

(فتح الباري لابن حجر،باب جمع القرآن، ج:9، ص:19، ط:دارالمعرفة)

سير اعلام النبلاء ميں ہے:

"عن أبي إسحاق، عن خمير بن مالك، قال: أمر بالمصاحف أن تغير، فقال ابن مسعود:من استطاع منكم أن يغل مصحفه فليغله، فإنه من غل شيئا جاء به يوم القيامة.

ثم قال: لقد قرأت من فم رسول الله صلى الله عليه وسلم سبعين سورة، أفأترك ما أخذت من في رسول الله صلى الله عليه وسلم؟"

(سير الصحابه ، الطبقة الأولى، ج:1، ص:486، ط:مؤسسة الرسالة)

المصاحف لابن ابی داؤد میں ہے:

"عن الأعمش، عن أبي وائل قال: خطبنا ابن مسعود على المنبر فقال:{ومن يغلل يأت بما غل يوم القيامة}[آل عمران: 161] غلوا مصاحفكم، وكيف تأمروني أن أقرأ على قراءة زيد بن ثابت، وقد قرأت من في رسول الله صلى الله عليه وسلم بضعا وسبعين سورة، وأن زيد بن ثابت ليأتي مع الغلمان له ذؤابتان، والله ما أنزل من القرآن إلا وأنا أعلم في أي شيء نزل، ما أحد أعلم بكتاب الله مني، وما أنا بخيركم، ولو أعلم مكانا تبلغه الإبل أعلم بكتاب الله مني لأتيته " قال أبو وائل: فلما نزل عن المنبر جلست في الحلق فما أحد ينكر ما قال."

وفيه ايضاّ:

"عن الزهري قال: وأخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، أن عبد الله بن مسعود كره لزيد بن ثابت نسخ المصاحف فقال: " يا معشر المسلمين، أعزل عن نسخ [كتاب] المصاحف وتولاها رجل، والله لقد أسلمت وإنه لفي صلب أبيه كافرا [يريد زيد بن ثابت] . وكذلك قال عبد الله: يا أهل الكوفة أو يا أهل العراق اكتموا المصاحف التي عندكم، وغلوها فإن الله يقول:{ومن يغلل}[سورة: آل عمران، آية رقم: 161] يأت بما غل يوم القيامة فالقوا الله بالمصاحف قال الزهري: فبلغني أن ذلك: كره من مقالة ابن مسعود رجال أفاضل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم [قال ابن أبي داود: عبد الله بن مسعود بدري وذاك ليس هو ببدري، وإنما ولوه لأنه كاتب رسول الله صلى الله عليه وسلم]."

(باب جمع القرآن،باب اتفاق الناس مع عثمان على جمع المصاحف وكراهية عبدالله ابن مسعود ذالك، ص:77/80، ط: الفاروق الحديثية، القاهرة)

2-اولاً یہ بات  ملحوظ رہے کہ ام المؤمنین  حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا كے مرتب شده نسخہ سے غیر مرتب نسخہ  کی تصحیح والے واقعہ میں کوفہ کی عورت نہیں بلکہ عراق کے کسی باشندے کا ذکر ملتاہے ،چنانچہ جامع صحیح بخاری میں "باب تأليف القرآن" کے تحت ایک روایت رقم ہے :

"يوسف بن ماهك قال: «إني عند عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها إذ جاءها عراقي فقال: أي الكفن خير؟ قالت: ويحك وما يضرك. قال: يا أم المؤمنين ‌أريني ‌مصحفك، قالت: لم؟ قال: لعلي أولف القرآن عليه، فإنه يقرأ غير مؤلف، قالت: وما يضرك أيه قرأت قبل، إنما نزل أول ما نزل منه سورة من المفصل، فيها ذكر الجنة والنار، حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شيء: لا تشربوا الخمر، لقالوا: لا ندع الخمر أبدا، ولو نزل: لا تزنوا، لقالوا: لا ندع الزنا أبدا، لقد نزل بمكة على محمد صلى الله عليه وسلم وإني لجارية ألعب:{بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر}وما نزلت سورة البقرة والنساء إلا وأنا عنده، قال: فأخرجت له المصحف، فأملت عليه آي السورة»."

ترجمہ :یوسف بن ماہک نے بیان کیا کہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک عراقی ان کے پاس آیااور پوچھا: " کون ساکفن بہتر ہے؟"( یعنی کفن کیسا ہونا چاہیے؟سفید یا اس کے علاوہ رنگین؟) ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "افسوس!" ( یعنی تجھے اس سے کیا مطلب ؟ جب تو مرگیاتو تجھے کیسا ہی کفن دیا جائے، تجھے کیا تکلیف ہوگی؟)پھر اس شخص نے کہا: اے ام المؤمنین ! آپ اپنا مصحف مجھے دکھلائیے"، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:کیوں؟( کیا ضرورت ہے؟) اس نے کہا: تاکہ میں بھی اس کے مطابق قرآن کو مرتب کرلوں(یعنی سورتوں کی ترتیب دے لوں)، اس لیے کہ قرآن مجید بے ترتیب پڑھا جاتا ہے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: " تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا، جونسی سورت پہلے پڑھ لے،سب سے پہلے مفصل کی ایک سورت (سورہ اقراءباسم ربک یا سورہ مدثر) جس میں جنت و دوزخ کا ذکر ہےنازل ہوئی، پھر جب لوگوں کا دل اسلام کی طرف رجوع ہواتو حلال و حرام نازل ہوا،( یعنی حلال و حرام کے مسائل و احکام نازل ہوئے)اور اگر پہلے ہی حکم نازل ہوجاتاکہ شراب مت پیوتو لوگ کہتے: ہم کبھی بھی شراب نہیں چھوڑیں گے،اور اگر شروع ہی میں یہ حکم نازل ہوتا کہ زنامت کرو تو لوگ کہتے کہ ہم زنا کبھی نہیں چھوڑیں گے،اور مکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت جب میں بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی یہ آیت نازل ہوئی،"بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر"، اور سورہ بقرہ اور سورہ نساءاس وقت نازل ہوئیں جب میں (مدینہ میں)حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجودتھی، پھر حضرت عائشہ نے عراقی کے لیے مصحف نکالا،اور ہر سورت کی آیتیں لکھوادیں۔

(کتاب فضائل القرآن، باب تالیف القرآن،رقم الحدیث:4993، ج:6، ص: 185، دار طوق النجاۃ)

لہذابخاری شریف کی اس روایت میں مذکور عراقی کا قرآن مجید کے غیر مرتب نسخہ کے مطابق پڑھنایا تو مصحف عثمانی کے مرتب شدہ نسخہ کی تیاری سے پہلے کا واقعہ ہے،جیسا کہ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس بات کی تصریح کی ہے، یا پھرمصحف عثمانی کے تیار ہونے کے بعد کاواقعہ ہے،لیکن اس کا پس منظر علامہ ابن حجر رحمہ اللہ یہ بیان کرتے ہیں کہ  حضرت عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ  چونکہ عراق میں تھے ،اور وہ اپنے ذاتی نسخے کے مطابق قرآن پڑھتے اور نقل کرتے تھے، اس لیے عراقی کے پاس بھی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ذاتی نسخے سے منقول نسخہ ہی تھا،اسی لیے مصحف عثمانی کے مقابلہ میں غیر مرتب تھا، لہذا عراقی نے چاہا کہ وہ اس بے ترتیب نسخہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے نسخے کے مطابق کرکے مرتب و منظم کرلے۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

" ثم سألها عن ترتيب القرآن فانتقل إلى سؤال كبير، وأخبرها أنه يقرأ غير مؤلف، أي: غير مرتب السور. وكأن هذا قبل أن يبعث أمير المؤمنين عثمان، رضي الله عنه، إلى الآفاق بالمصاحف الأئمة المؤلفة على هذا الترتيب المشهور اليوم، وقبل الإلزام به، والله أعلم. ولهذا أخبرته: إنك لا يضرك بأي سورة بدأت ... فأما ترتيب الآيات في السور فليس في ذلك رخصة، بل هو أمر توقيفي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، كما تقدم تقرير ذلك؛ ولهذا لم ترخص له في ذلك، بل أخرجت له مصحفها، فأملت عليه آي السور، والله أعلم. وقول عائشة: لا يضرك بأي سورة بدأت، يدل على أنه لو قدم بعض السور أو أخر، كما دل عليه حديث حذيفة وابن مسعود، وهو في الصحيح أنه، عليه السلام، قرأ في قيام الليل بالبقرة ثم النساء  ثم آل عمران  . وقد حكى القرطبي عن أبي بكر بن الأنباري في كتاب الرد أنه قال: فمن أخر سورة مقدمة أو قدم أخرى مؤخرة كمن أفسد نظم الآيات وغير الحروف والآيات وكان مستنده اتباع مصحف عثمان، رضي الله عنه، فإنه مرتب على هذا النحو المشهور، والظاهر أن ترتيب السور فيه منه ما هو رجع إلى رأي عثمان، وذلك ظاهر في سؤال ابن عباس له في ترك البسملة في أول براءة، وذكره الأنفال من الطول، والحديث في الترمذي وغيره بإسناد جيد وقوي. وقد ذكرنا عن علي أنه كان قد عزم على ترتيب القرآن بحسب نزوله."

(مقدمه ابن كثير، ج:1، ص:47/48، ط:دار طيبة للنشر)

فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ہے:

"قال بن كثير كأن قصة هذا العراقي كانت قبل أن يرسل عثمان المصحف إلى الآفاق كذا قال وفيه نظر فإن يوسف بن ماهك لم يدرك زمان أرسل عثمان المصاحف إلى الآفاق فقد ذكر المزي أن روايته عن أبي بن كعب مرسلة وأبي عاش بعد إرسال المصاحف على الصحيح وقد صرح يوسف في هذا الحديث أنه كان عند عائشة حين سألها هذا العراقي والذي يظهر لي أن هذا العراقي كان ممن يأخذ بقراءة بن مسعود وكان بن مسعود لما حضر مصحف عثمان إلى الكوفة لم يوافق على الرجوع عن قراءته ولا على إعدام مصحفه كما سيأتي بيانه بعد الباب الذي يلي هذا فكان تأليف مصحفه مغايرا لتأليف مصحف عثمان ولا شك أن تأليف المصحف العثماني أكثر مناسبة من غيره فلهذا أطلق العراقي أنه غير مؤلف."

(فتح الباري لابن حجر،باب جمع تأليف القرآن، ج:9، ص:39/40، ط:دارالمعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100414

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں