بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسبوق جب دوسری یا تیسری رکعت میں شامل ہو،تو شامل ہونے والی رکعت میں ثناء پڑھنے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص جماعت کی نماز میں دوسری یا تیسری رکعت میں شامل ہو، اور جس رکعت میں شامل ہوا ہے اس میں ہی جان بوجھ کر ثناء پڑھے ،تو اس کا کیا حکم ہے ؟اس کی نماز پر اس کا کوئی اثر ہوگا یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص جماعت کی دوسری یا تیسری رکعت میں شریک ہو  تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ  وہ امام کے پیچھے اس رکعت میں ثناء نہیں پڑھے گا،امام کے سلام پھیرنے کے بعد جب وہ اپنی بقیہ نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑا ہوگا تو ثناء پڑھے گا۔تاہم اگر مذکورہ صورت میں ثنا ء پڑھ لی ہو تو اس سے نماز فاسد   نہیں ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" المسبوق من لم يدرك الركعة الأولى مع الإمام وله أحكام كثيرة، كذا في البحر الرائق
(منها) أنه إذا أدرك الإمام في القراءة في الركعة التي يجهر فيها لايأتي بالثناء، كذا في الخلاصة، هو الصحيح، كذا في التجنيس، وهو الأصح، هكذا في الوجيز للكردري، سواء كان قريبًا أو بعيدًا أو لا يسمع لصممه، هكذا في الخلاصة، فإذا قام إلى قضاء ما سبق يأتي بالثناء ويتعوذ للقراءة، كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة والظهيرية،وفي صلاة المخافتة يأتي به، هكذا في الخلاصة."

( كتاب الصلاة، الباب الخامس في الإمامة، الفصل السابع في المسبوق واللاحق،ج:1،ص:91، ط: دار الفكر)

تبيين الحقائق  میں ہے:

"ولو تشهد في قيامه أو ركوعه أو سجوده فلا سهو عليه؛ لأنه ثناء وهذه المواضع محل الثناء".

(کتاب الصلاۃ،باب سجود السهو،ج:1،ص:193،ط:دار الكتاب الإسلامي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فأما المقتدي إذا سها في صلاته فلا سهو عليه؛ لأنه لايمكنه السجود؛ لأنه إن سجد قبل السلام كان مخالفًا للإمام، وإن أخره إلى ما بعد سلام الإمام يخرج من الصلاة بسلام الإمام؛ لأنه سلام عمد ممن لا سهو عليه، فكان سهوه فيما يرجع إلى السجود ملحقًا بالعدم لتعذر السجود عليه، فسقط السجود عنه أصلاً".

(کتاب الصلاۃ، فصل بيان من يجب عليه سجود السهو ومن لايجب عليه سجود السهو، ج:1،ص:175، ط: دارالکتب العلمیة بیروت)

احسن الفتاوی میں ہے :

"مدرک اور مسبوق کے لیے ثناء کا حکم:

سوال:مدرک اور مسبوق نماز میں امام کی قراءت شروع ہونے  کے بعد شریک ہو ،تو اس کو ثناء پڑھنی جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب:امام کی جہری قراءت کے ساتھ نہ پڑھے ،اگر مسبوق ہو،تو قضاء مافات کے وقت پڑھ لے ،سرّی نماز میں امام کے ساتھ بھی پڑھے ،اور قضاء مافات کے وقت بھی دوبارہ پڑھ لے۔

وقال الحلبی رحمه الله في الغنية :والمسبوق ياتي بالثناء اذا ادرك الامام حالة المخافتة ثم اذا قام الي قضاء ماسبق به ياتي به ايضا كذا ذكره في الملتقط .ووجهه ان القيام الي قضاء ماسبق كتحريمة أخري للخروج به(کبیری297)."

(باب المسبوق واللاحق،ج:3،ص:382،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100568

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں