بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسِ ذکر کے بارے میں ائمہ کا اختلاف


سوال

مس ذکر کے  ناقض وضو ہونے کے بارے میں ائمہ کا اختلاف  بیان  کردیجیے؟ 

جواب

مسِ ذکر  کا مسئلہ   حضراتِ فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے مابین    ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہےکہ آیا  مسِ ذکر  موجبِ وضوہے  یا نہیں؟

اس بارے میں حضرت امام شافعی رحمہ  اللہ تعالیٰ  کا مسلک یہ ہے کہ  اگرمسِ ذکربباطن الکف  اور بلاکسی حائل کے ہو  تو یہ ناقضِ وضو ہے،اسی طرح مس فرجِ امرأۃ اور مسِ دبر بھی ناقض وضوہے، جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کامسلک  یہ ہے کہ  مسِ ذکروفرج ودبر  کسی سے وضوواجب نہیں  ہوتا،اور ایک قول کے مطابق  یہی  مسلک  حضرت امام مالک اور امام احمد رحمہما اللہ تعالیٰ کا بھی ہے۔

المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی میں ہے:

"ومس الذكر لا ينقض الوضوء بحال. وقال الشافعي: ينقض إذا مسه بباطن الكف من غير حائل، لحديث بُسْرة أن النبي عليه السلام قال: «‌من ‌مس ‌ذكره فليتوضأ» ولأنه سبب لاستطلاق وكاء المذي فيقام مقامه، ولنا ما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلّمسئل عمن مس ذكره هل عليه أن يتوضأ؟ قال: «لا وهل هو إلا بضعة منك؟» ولأن إقامة السبب الظاهر مقام المعنى الخفي عند تعذر الوقوف على الخفي، وذلك غير موجود ههنا؛ لأن المذي يرى."

(ج:1، ص: 74، ط: دارالکتب العلمية)

المجموع  شرح المھذب میں ہے:

(المسألة الرابعة) في الأحكام"فإذا مس الرجل أو المرأة قبل نفسه أو غيره من صغير أو كبير حي أوميت ذكر أو أنثى انتقض وضوء الماس....

(السادسة) إذا مس دبر نفسه أو دبر آدمي غيره انتقض على المذهب."

(ج:2، ص: 37، ط: دارالفکر بیروت)

فتاویٰ الامام النووی میں ہے:

- مسألة: ‌من ‌مس ‌ذكره بباطن كفه ناسيًا هل تبطل صلاته وطهارته؟.أجاب رضي الله عنه: نعم؛ تبطل صلاته وطهارته.....

(باب في الحديث علي مس الفرج،ص:26، ط:دار البشائرِ الإسلامية للطباعة والنشر والتوزيع)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508100136

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں