بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مسئلہ تقدیرمیں غور وخوض کا حکم


سوال

 لوگ کہتے ہیں کہ قسمت کیا ہے ہم جو کچھ کرتے ہیں وہ پہلے سے لکھا ہے اور ہم جو بھی گناہ کرتےہیں وہ پہلے سے لکھا ہے اور اس کے مطابق ہم جنت یا دوزخ میں ڈال دیے جائیں گے اور اس میں ہمارا کیا قصور ہے جو کچھ پہلے سے لکھا ہے اس میں ہماراکیا قصور ہے؟

جواب

آپ کا سوال تقدیر سے متعلق ہے،اور مسئلہ تقدیر سے متعلق زیادہ غور وخوض اور بحث ومباحثہ  کی اجازت نہیں ہے،حدیث مبارکہ میں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دفعہ کسی گفتگو میں مشغول تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے،فرمایا:کیا گفتگو کر رہے تھے؟عرض کیا کہ تقدیر کے مسئلہ میں بات تھی،آپ کا چہرہ مبارک غصہ سے سرخ ہوگیا اور فرمایا:کیا اس کے لیے تم پیدا کیے گئے ہو یا میں اس کے لیے بھیجا گیا ہوں؟ہلاک ہوگئے وہ لوگ جنہوں نے اس میں گفتگو کی،آئندہ اس مسئلہ میں بحث ومباحثہ مت کرنا۔

لہذا مسئلہ تقدیر میں الجھنے کے بجائے  بس بنیادی طور پر اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ تمام کام جو انسانوں سے سر زرد ہوتے ہیں تقدیر الٰہی سے ہوتے ہیں،یعنی ازل سے ابد تک کے تمام حوادث وواقعات کا اللہ تعالیٰ کو علم اور اندازہ ہے اسی علم خداوندی کے موافق تمام حوادث وواقعات اپنے اپنے وقت پر ہوتے رہتے ہیں،کوئی ایک ذرہ بھی خدا تعالیٰ کے علم وقدر سے باہر نہیں ہے،اس کا یہ مطلب نہیں کہ حق تعالیٰ بندوں کو اچھے برے کام پر مجبور کرچکا ہے یا کرتا ہے،بلکہ بندے جو اچھے یا برے کام کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت کو اپنے اختیار سے اس کے علم وقدر کے ماتحت استعمال کرتے ہیں۔اور اسی وجہ سے وہ جزا یا سزا کے مستحق ہوتے ہیں،اچھائی یا برائی کے ارتکاب میں انسان کے قصد وارادے کو دخل ہے۔انسان پتھروں کے مثل مجبور اور بے بس نہیں ہے،انسان اپنے اچھے برے کاموں کے اچھے برے نتائج کا مستحق اور ذمہ دار اپنے اختیاری اعمال کی بنا پر ہوتا ہے۔(از کفایت المفتی،ج1،ص145،ط؛دار الاشاعت)

سنن الترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌ونحن ‌نتنازع ‌في ‌القدر فغضب حتى احمر وجهه، حتى كأنما فقئ في وجنتيه الرمان، فقال: «أبهذا أمرتم أم بهذا أرسلت إليكم؟ إنما هلك من كان قبلكم حين تنازعوا في هذا الأمر، عزمت عليكم ألا تتنازعوا فيه»."

(ابواب القدر،‌‌باب ما جاء في التشديد في الخوض في القدر،ج4،ص11،ط؛دار الغرب الاسلامی)

مرقاۃ المصابیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"(وعن أبي هريرة) : رضي الله عنه (قال: «خرج علينا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ونحن نتنازع» ) أي: حال كوننا نتباحث (في القدر) أي: في شأنه فيقول بعضنا: إذا كان الكل بالقدر فلم الثواب والعقاب كما قالت المعتزلة، والآخر يقول: فما الحكمة في تقدير بعض للجنة، وبعض للنار؟ فيقول الآخر: لأن لهم فيه نوع اختيار كسبي. فيقول الآخر: فمن أوجد ذلك الاختيار والكسب وأقدرهم عليه، وما أشبه ذلك. (فغضب حتى احمر وجهه) أي: نهاية الاحمرار (حتى) أي: حتى صار من شدة حمرته، (كأنما فقئ) : بصيغة المفعول؛ أي: شق، أو عصر (في وجنتيه) أي: خديه (حب الرمان) : فهو كناية عن مزيد حمرة وجهه المنبئة عن مزيد غضبه، وإنما غضب؛ لأن القدر سر من أسرار الله تعالى، وطلب سر الله منهي؛ ولأن من يبحث فيه لا يأمن من أن يصير قدريا، أو جبريا، والعباد مأمورون بقبول ما أمرهم الشرع من غير أن يطلبوا سر ما لا يجوز طلب سره، (فقال) : - عليه الصلاة والسلام - (أبهذا) أي: «أبالتنازع في القدر (أمرتم؟» ) : وهمزة الاستفهام للإنكار، وتقديم المجرور لمزيد الاهتمام (أم بهذا أرسلت إليكم؟) : أم منقطعة؛ بمعنى بل، والهمزة وهي للإنكار أيضا ترقيا من الأهون إلى الأغلظ، وإنكار غب إنكار (إنما هلك من كان قبلكم) أي: من الأمم؛ جملة مستأنفة جوابا عما اتجه لهم أن يقولوا: لم تنكر هذا الإنكار البليغ؟ (حين تنازعوا في هذا الأمر) : وهذا يدل على أن غضب الله، وإهلاكهم كان من غير إمهال، ففيه زيادة وعيد، (عزمت) أي: أقسمت أو أوجبت (عليكم) قيل: أصله عزمت بإلقاء اليمين، وإلزامها عليكم ( «عزمت عليكم أن لا تنازعوا» ) : بحذف إحدى التاءين (فيه) : ولا تبحثوا في القدر بعد هذا. قال ابن الملك: أن هذه يمتنع كونها مصدرية وزائدة؛ لأن جواب القسم لا يكون إلا جملة، وأن تزداد مع لا فهي إذا مفسرة كأقسمت أن لا ضربت، وتنازعوا جزم بلا الناهية، ويجوز أن تكون مخففة من الثقيلة؛ لأنها مع اسمها، وخبرها سدت مسد الجملة كذا قاله زين العرب. (رواه الترمذي)."

(کتاب الایمان،باب الایمان والقدر،ج1،ص175،ط؛دار الفکر)

شرح العقائد  النسفیہ میں ہے:

"للعباد افعال اختيارية يثابون بها ان كانت طاعة ويعاقبون عليها ان كانت معصية لا كمازعمت الجبرية:انه لافعل للعبد اصلا،وان حركاته بمنزلة حركات الجمادات لاقدتة عليهاولاقصد ولااختيار ،وهذا باطل."

(الکلام فی خلق الافعال،ص375،ط؛بشری)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405100520

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں