بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مساجد میں اللہ کے نام کے ساتھ نبی ﷺ کا نام لکھنے کا حکم


سوال

کیا مساجد میں الله کے نام کے ساتھ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ  وسلم کا نام لکھا جا سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مسجد کے منبر ومحراب  کی ایسی جگہ پر جہاں عام طور پر دوران نماز نگاہ پڑ سکتی ہو، اللہ ، محمد  یا دیگرکلمات لکھنا مکروہ ہے،کیونکہ نمازیوں کے ان کلمات پر نظر پڑنے سےنمازکےاندر خیال منتشر ہونے کی وجہ سے خشوع وخضوع ختم ہونے کا اندیشہ ہے،  تاہم محراب میں اوپرکی جانب جہاں نمازی کی نظرنہ جائےیاکسی ایسی دیوار پرجونمازی کےسامنےنہ ہوتو "اللہ" اور "محمد" یا دیگر کلمات  (آیاتِ قرآنی وغیرہ)لکھ سکتےہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"تكره كتابة القرآن وأسماء الله - تعالى - على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش، وما ذاك إلا لاحترامه، وخشية وطئه ونحوه مما فيه إهانة فالمنع هنا بالأولى ما لم يثبت عن المجتهد أو ينقل فيه حديث ثابت فتأمل، نعم نقل بعض المحشين عن فوائد الشرجي أن مما يكتب على جبهة الميت بغير مداد بالأصبع المسبحة - بسم الله الرحمن الرحيم - وعلى الصدر لا إله إلا الله محمد رسول الله، وذلك بعد الغسل قبل التكفين اهـ والله أعلم."

(کتاب الصلوۃ، ج:2، ص:247، ط: سعید)

وفيه أيضاً:

"(‌ولا ‌بأس ‌بنقشه ‌خلا ‌محرابه) فإنه يكره لأنه يلهي المصلي. ويكره التكلف بدقائق النقوش ونحوها خصوصا في جدار القبلة قاله الحلبي. وفي حظر المجتبى: وقيل يكره في المحراب دون السقف والمؤخر انتهى. وظاهره أن المراد بالمحراب جدار القبلة فليحفظ."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:658، ط: سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

"‌وليس ‌بمستحسن ‌كتابة ‌القرآن على المحاريب والجدران لما يخاف من سقوط الكتابة وأن توطأ."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:2، ص:40، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504101694

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں