بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

مساجد میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانا


سوال

 دور ِحاضر میں مساجد میں سی سی ٹی وی کیمرے کا استعمال یہ کہہ کر کرنا کہ مساجد کی حفاظت ہو یا ان کے اندرونی اشیاء کی نگرانی ہوتی رہے، اور شرپسند عناصر سے حفاظت رہے، خصوصاً دور حاضر میں شرپسند عناصر کی جانب سے جو واقعات ہو رہے ہیں کہ مسجدوں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنا، وضو خانے کو نقصان پہنچانا، مسجدوں میں مورتیاں لاکر رکھنا، یا مساجد کی بے حرمتی والا کوئی اور واقعہ پیش آنا،  ان سارے مسائل سے واقفیت کے لیے  یا ان کی ریکارڈنگ کے لیے یا بر وقت ان کی حرکتوں کے ثبوت کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کا مساجد کے باہر یا اندرونی حصوں میں نصب کرنا کہاں تک درست ہے؟ اسی طرح سورہ حجرات کی آیت نمبر 12  کے مطابق تجسّس کرنے کے گناہ میں تو نہیں آئے گا یہ سی سی ٹی وی کیمرے کا استعمال؟ 

جواب

واضح رہے کہ جو کیمرے  حفاظت کی غرض سے مختلف مقامات پر لگائے جاتے ہیں، خواہ وہ اشیاء کی حفاظت کے  لیے ہوں یا شر پسند عناصر سے حفاظت کے  لیے ہوں، دونوں صورتوں میں  ان کیمروں میں جاندار کی تصاویر ریکارڈ ہوتی ہیں؛  اس لیے کہ کیمرہ پہلے تصویر بناتا ہے اور پھر اسے ظاہر کرتا ہے،  اور جاندار کی  تصویر  بنانا ناجائز اور  حرام  ہے،  لہذا مساجد میں  سی ٹی وی کیمرہ لگانے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

باقی مسجد کی اشیاء اور سازوسامان   کی حفاظت کے  لیے کیمرے کے علاوہ دیگر جائز  ذرائع استعمال کیے جاسکتے ہیں، مثلاً گارڈ رکھ لیے  جائیں یا  کچھ افراد مختص کر دیے جائیں جو باقاعدہ اسی مقصد کے  لیے مختلف مقامات پر کھڑے ہوں اور لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں، نیز  حفاظت سے متعلق مسنون اذکار کے اہتمام کی ترتیب  بھی بنائی جائے۔

واضح رہے کہ مسجد کے عمومی مقامات مثلا وضوخانہ وغیرہ پر حفاظتی اقدامات کی غرض سے جائز ذرائع کا استعمال تجسس اور ٹوہ میں لگنا نہیں، تاہم کسی کی نجی جگہ پر اس طرح کے اقدامات کرنا جائز نہیں، ناجائز ذرائع کا استعمال بہر صورت ناجائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا، انتهى، وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ."

(حاشية ابن عابدين: كتاب الصلاة، مطلب: مكروهات الصلاة، 1 /647، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311101162

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں