بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الاول 1442ھ- 29 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مساجد کو وبا کے پھیلنے کا ذریعہ قرار دینا


سوال

ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے  جو یہ کہے کہ مساجد وبا پھیلنے کا سبب بن رہی ہیں؟

جواب

کسی دنیاوی حکم ران کے گھر کے بارے میں  اس کی ناراضی اور اس کے غصے کے خوف سے کوئی یہ کہنے کی جرات نہیں کرتا کہ اس کا گھر  وبا کے پھیلنے کا ذریعہ ہے تو  اللہ رب العالمین جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے اور حقیقی بادشاہت اسی کی ہے،  جو روزِ جزا کا مالک ہے، اس کے گھر کے بارے میں ایسا تبصرہ کرنا انتہائی جرأت اور بے ادبی  کی بات ہے۔  مساجد  تو  اللہ رب العزت کا گھر  ہیں، روئے زمین کی جگہوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب جگہیں ہیں،  اور رحمتوں کے مراکز ہیں، انہیں وبا  کے پھیلاؤ  کا ذریعہ قرار دینا انتہائی ناسمجھی اور خدا کے غضب کو دعوت دینے والی بات ہے، لہذا ایسا کہنے والے شخص کو  ہرممکن طریقے سے حکمت سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی جائے، اور توبہ واستغفار پر آمادہ کیا جائے۔فقط واللہ اعلم

نوٹ: مذکورہ جواب مستفتی کے اسی موضوع سے متعلق ایک دوسرے سوال اور قرائن کی روشنی میں لکھا گیا ہے۔ اگر مذکورہ جملے کا قائل اس کی تشریح کچھ اور کرتاہے اور وہ اس تشریح میں سچا ہے تو اس صورت میں مذکورہ جواب نہیں ہوگا۔


فتوی نمبر : 144108200597

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں