بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

’’مریم ضحیٰ‘‘ نام رکھنے کا حکم


سوال

کیا میں اپنی بیٹی کا نام"مریم ضحی"  رکھ سکتا ہوں؟

جواب

’’مریم‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا نام ہے اور ’’ضحیٰ‘‘  عربی زبان میں دن چڑھنے کے وقت کو کہا جاتا ہے، اسی طرح سے سورج کی روشنی، یا بات کا واضح ہونا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے،اس  لیے ’’مریم ضحیٰ‘‘ نام رکھ سکتے ہیں۔

الضُّحَى : (معجم الوسيط) : 

"الضُّحَى : ضَوُءُ الشمس. الضُّحَى ارتفاع النَّهار وامتداده. الضُّحَى وقت هذا الارتفاع أَو الامتداد. يقال: ما لكلامِهِ ضُحَّى: ما لَهُ بيانٌ".

تاج العروس (32/ 302):

’’(و) {مريم: (اسم) ابنة عمران التي أحصنت فرجها صلى الله عليها، وعلى ابنها عيسى، وعلى نبينا أفضل الصلاة والسلام‘‘.

تاج العروس (38/ 454):

’’ (والضحى) ، كهدى: (فويقه) ، وهو حين تشرق الشمس؛ كما في الصحاح.وقيل: هو من طلوع الشمس إلى أن يرتفع النهار وتبيض جدا؛ كما في المحكم. والأكثر على أنها مرادفة لما قبلها؛ نقله شيخنا. وقال الراغب:} الضحى: انبساط الشمس وامتداد النهار، وسمي الوقت به؛ ومنه قوله تعالى: {{والضحى والليل إذا سجى}،{وأن يحشر الناس} ضحى} ‘‘.

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144210200810

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں