بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مرحوم والد کی قومی بچت میں جمع رقم کی تقسیم کا حکم


سوال

میرے والد صاحب نے قومی بچت میں 6 لاکھ روپے جمع کروائے تھے  ،والد صاحب کے انتقال کے بعد وہ چھ لاکھ روپے مجھے ملنے ہیں  ،کیونکہ  قومی بچت کے فارم میں نومینیشن مجھے بنایا  ہے ،اس میں میری والدہ یعنی والد صاحب  کی بیوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی کا شریعت کے مطابق ان  چھ  لاکھ میں سے کتنا حصہ بنتا ہے، ہر ایک کے حصے میں کتنی رقم آئے گی ؟تفصیل سے بیان فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ قومی بچت اسکیم میں سائل کے مرحوم والد نے جتنی اپنی ذاتی رقم جمع کرائی تھی تو وہ اصل رقم  ان کے انتقال کے بعد ان کا ترکہ ہے جو ان کے ورثاء کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی،اس رقم پر نفع شرعاً سود ہے،اس کاوصول کرناجائز نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں سائل کے مرحوم والد  کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ(تجہیزو تکفین کے اخراجات )ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو کل مال سے ادا کرنے کے  بعد، مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو  باقی  مال کے تہائی  حصہ میں سے  اسے  نا فذ کرنے کے بعد  باقی تمام ترکہ    منقولہ و غیر  منقولہ کو 24 حصوں میں تقسیم کر کے والد کی بیوہ کو 3 حصے،بیٹے کو 14 حصے اور بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت: 24/8۔۔والد۔۔

بیوہبیٹابیٹی
17
3147

یعنی فیصد کے اعتبار سے بیوہ کو12.5 فیصد ،بیٹے کو58.33 فیصد اور بیٹی کو29.16 فیصد ملے گا،

600000روپے میں سے75000 روپے بیوہ کو ،350000روپے بیٹے کو اور175000 روپے بیٹی کو ملیں گے۔

حدیثِ  مبارک  میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه» . وقال: «هم سواء»."

(الصحیح لمسلم،، باب لعن آكل الربا ومؤكله، 3 /1219 ط: دار إحیاء التراث، مشکاة المصابیح، باب الربوا، ص: 243، قدیمی)

ترجمہ:" حضرت جابر رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں۔"

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411101036

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں