بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

مارکیٹ میں رائج نفع کے اعتبار سے شرکاء کو نفع دینے اور سرمایہ میں غبن ہوجانے کا حکم


سوال

بندہ ایک شخص کے ساتھ شراکت داری میں کاغذ درآمد کرتا تھاجس میں  تمام رقم بندہ کی تھی اور دوسرے شخص کی محنت اور عمل تھااور ہمارے درمیان نفع کچھ مقرر نہیں تھا۔اس کے علاوہ اس کاروبار میں دیگر افراد نے بھی اپنا سرمایہ لگایا ہواتھا، جس پر ان کو ہر ماہ بازار میں عام رائج نفع سے زیادہ نفع دیا جاتا رہا تھا۔

چار ماہ قبل بندہ کے ساتھ کاروبار میں شراکت دار شخص نے بندے کے ساتھ فراڈ کیااور سارا سرمایہ غبن کرکے فرار ہوگیا، اب بندہ کے اس کاروبار میں جن حضرات نے سرمایہ کاری کی تھی وہ تمام افراد بندہ سے طلب گار ہیں کہ ان کو ہر ماہ نفع دیا جائےیا پھر ان کی اصل رقم واپس کردی جائےجب کہ بندہ کا اپنا سرمایہ بھی اس غبن میں ہلاک ہوچکا ہے۔

بندہ اس معاملہ میں شریعت کا حکم جاننا چاہ رہا ہے کہ آیا بندہ تمام سرمایہ دار حضرات کو کاروبار کے ختم ہوجانے کےباجود اصل رقم یا نفع دینے کا پابندہے؟تاکہ بندہ کی راہ نمائی ہوسکے اور بندہ حقوق العباد کا تالف نہ ہو۔

وضاحت: نفع کچھ مقرر نہیں  تھا، جتنا مارکیٹ میں نفع رائج تھا  اس سے زائد ہی دیتا تھا۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی عقد میں دو شخص اس طور پر شریک ہوں کہ  ایک کا  سرمایہ اور دوسرےکی  محنت ہو تو اسے "عقدِ مضاربت" کہتے ہیں،اس صورت میں  جس شخص کا سرمایہ ہو اسے "رب المال" اور جس کی محنت ہو اسے"مضارب" کہتے ہیں اور اس عقد کے نتیجے میں  حاصل ہونے والا منافع  دونوں (مضارب اور رب المال) کے درميان حسبِ معاہدہ تقسیم کیا جائے گا،اور  نفع کی تقسیم فیصد کے اعتبار سے کرنا ضروری ہے، اگر نفع فیصد کےحساب سے  متعین نہ ہو  یانفع سرے سے  مقرر ہی نہ ہو تو اس صورت میں مضاربت فاسد ہوجائےگی ، مضاربتِ فاسدہ کا حکم یہ ہے کہ اس سے حاصل ہونے والا تمام نفع سرمایہ دار کا ہوتاہے، البتہ مضارب اجرتِ مثل کا مستحق ہوتا ہے۔

نیز کاروبار کے لیے دی گئی رقم مضارب کے پاس امانت ہوتی ہے، اور امانت کا حکم یہ ہے کہ اگر  تعدی  اور غفلت کےبغیرہلاک ہوجائے تو اس کا ضمان لازم نہیں ہوتا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چوں کہ مذکورہ شخص (سائل) نے نفع کی کوئی تعیین نہیں کی تھی کہ دونوں کے مابین  کتنا نفع  فیصد کے اعتبارسے تقسیم کیا جائے گا،بلکہ مارکیٹ میں رائج نفع کے اعتبار سے ان کو نفع دیتا رہاہے تو مذکورہ مضاربت فاسد ہونے کی وجہ سے ناجائز تھی اورجن سے رقم لی تھی اب تک سائل جتنا نفع  ان  کو دیتا رہاہے، اگر وہ ان کے سرمایہ کے اعتبار سے پورا تھا تو ٹھیک اور اگر زائد تھا تو زائد کا واپس کرنا لازم ہے۔

جہاں تک سرمایہ میں غبن ہوجانے کا تعلق ہے تو  اس  میں سائل  کی غفلت اور کوتا ہی شامل نہیں تو سائل  پر لوگوں کا  سرمایہ یا سرمایہ کا نفع  ان کو ادا کرنا  واجب نہیں،  اس  لیے  کہ سرمایہ داروں کی رقم سائل کے ہاتھ میں  امانت تھی، اس کا ضمان سائل  پر نہیں، جب رقم مل جائے گی تو اس کو شریعت کےمطابق تقسیم کرنا لازم ہوگا۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"وإذا أبضع المضارب في ‌المضاربة ‌الفاسدة فهو جائز على رب المال؛ لأن الفاسد يعتبر بالجائز في الحكم فإنه لا يمكن تعرف معرفة الحكم الفاسد إلا باعتباره بالجائز فكما لا يصير مخالفا به في المضاربة الجائزة فكذلك لا يصير مخالفا في ‌المضاربة ‌الفاسدة، وللمضارب أجر المثل فيما عمل المستبضع؛ لأن عمل المستبضع له بأمره كعمله بنفسه وقد بينا أن له في ‌المضاربة ‌الفاسدة أجر مثله فيما عمل، وكذلك لو كان قال له: اعمل فيه برأيك، فإنه ينفذ بعد هذا ما ينفذ في المضاربة الصحيحة فلا يصير به ضامنا"۔

(کتاب المضاربۃ، باب مایجوز للمضارب فی المضاربۃ، ج:22، ص:46، ط:دارالمعرفۃ)

وفيه ايضاً:

"ولو كان المضارب الأول دفع المال إلى رجل مضاربة على أن للمضارب الثاني من الربح مائة درهم فعمل به فربح، أو وضع، أو توى المال بعد ما عمل به فلا ضمان لرب المال على أحد، والوضيعة عليه والتوى من ماله؛ لأن المضارب الأول إنما يصير ضامنا بإشراك الغير في ربح ماله، وبما باشر من ‌المضاربة ‌الفاسدة لا يوجد سبب الاشتراك بل ‌المضاربة ‌الفاسدة كالإجارة"۔

(کتاب المضاربۃ، باب المضارب يدفع المال مضاربۃ، ج:22، ص:101، ط:دارالمعرفۃ)

درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے:

"(و) الخامس (كون نصيب المضارب من الربح معلوما عنده) أي عند العقد لأن الربح هو المعقود عليه وجهالته توجب فساد العقد"۔

(کتاب المضاربۃ، شروط المضاربۃ،ج:2، ص:311، ط:دار احیاء الکتب العربیۃ)

شرح المجلہ لسلیم رستم باز میں ہے:

"الوديعة أمانة في يد المودَع، فإذا هلكت بلا تعد منه و بدون صنعه و تقصيره في الحفظ لا يضمن، ولكن إذا كان الإيداع بأجرة فهلكت أو ضاعت بسبب يمكن التحرز عنه لزم المستودع ضمانها".

( أحكام الوديعة، رقم المادة:777، ج:1، ص:342، ط:مكتبه رشيديه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101692

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں