بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مرکز قومی بچت پاکستان میں رقم جمع کروا کر منافع لینا حرام ہے


سوال

مرکز قومی بچت پاکستان میں اپنی رقم جمع کروا کر فکسڈ منافع لینا درست ہے یا سود کے زمرے میں آتا ہے؟

جواب

مرکز قومی بچت پاکستان (قومی  بچت اسکیم) سے حاصل ہونے والا نفع شرعاً سود ہے،اس لیے کہ  قومی بچت اسکیم کے ذریعہ جو سرمایہ کاری کی جاتی ہے اس میں شرعی اصولوں کی رعایت نہیں کی جاتی، جو رقم اس مد میں جاتی ہے، اس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے اور اس پر جو منافع ملتا ہے  وہ سود ہے؛  اس لیےقومی  بچت اسکیم میں سرمایہ کاری جائز نہیں ہے، اور اس کا نفع حلال نہیں ہے ۔

قرآن کریم میں ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا الله َ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ (البقرة:الآية: 278 الي 280 )

ترجمہ: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو  اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طر ف سے اور اگر تم توبہ کرلوگےتو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤگے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو اور زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔(بیان القرآن ) 

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه». وقال: «هم سواء»".

(الصحیح لمسلم، باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج:3، ص:1219، ط:دار إحیاء التراث-بیروت.- مشکاة المصابیح،  باب الربوا، ص:243، ط:قدیمی)

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"( كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر".

(کتاب البیوع، فصل فی القرض، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:166، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504100594

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں