بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مرحومہ والدہ کے متروکہ پیسے صدقہ جاریہ کے کسی کام میں خرچ کرنا


سوال

میری پیاری والدہ کا انتقال پچھلے ماہ ہوا، وہ کچھ رقم چھوڑ کر گئیں تھیں اور کہہ گئیں تھیں کہ ان کا کفن دفن اس رقم سے کیا جائے، مگر کفن دفن  کا خرچہ ہم نے خود ہی کردیا تھا، اب اُس رقم کا کیا مصرف ہے؟ اور اُس کا کیا کِیا جائے کہ والدہ کو قیامت تک ثواب ملتا رہے؟اس کے علاوہ بہترین صدقہ جاریہ کا بھی بتا دیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں والدہ کی متروکہ مذکورہ رقم شرعاً ورثاء کا حق ہے، لہذا مرحومہ  کے شرعی ورثاء میں تمام افراد عاقل و بالغ ہیں ، توتمام ورثاء کی اجازت و رضامندی سےوہ رقم اجتماعی طور پر مرحومہ کی جانب سے صدقہ جاریہ  کے طور پر کسی جگہ بھی خرچ کی جاسکتی ہے، اور اگر کوئی وارث نابالغ ہو، یا پھر کوئی بالغ وارث اپنے حصہ کا مطالبہ کرے تو اُس کو مذکورہ رقم میں سےاُس کا شرعی حصہ ادا کرنا ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية."

(کتاب الفرائض ،ج:6،ص:759،ط:سعید)

مرحومہ والدہ کے ایصال ثواب کے لیے صدقہ جاریہ کے لیے ایسے کام کا انتخاب کرنا بہتر ہے، جس کی لوگوں کو ضرورت زیادہ ہو اور نفع عام ہو،  علماء فرماتے ہیں کہ  صدقہ افضل ہونا کسی ا یک چیز میں منحصر نہیں، بلکہ علاقے ، زمانے اور لوگوں کے اعتبار سے یہ مختلف ہوتا رہتا ہے،جیسا کہ     ایک حدیثِ مبارک  معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے  میت  کے لیے بہترین صدقہ (مخلوق کو )  پانی فراہم  کرنا قرار دیا۔ اور یہ اس  لیے فرمایا کہ  وہاں پانی کی قلت    اور گرمی کی شدت کی وجہ سے اس وقت زیادہ ضرورت پانی کی تھی، لہٰذا اس موقع پر پانی کا صدقہ کرنا زیادہ افضل قرار دیا۔ جب کہ دیگر روایات سے دیگر چیزوں کا صدقہ افضل معلوم ہوتا ہے،اپنے حالات کے لحاظ سےاس کا فیصلہ  خود کرلیاجائے،  البتہ کچھ بہتر صورتیں ذکر کی جاتی ہیں:

1۔ مسجد یا دینی مدرسے کے لیے زمین وقف کی جائے۔

2۔ مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا جائے۔

3۔ایسی جگہ کنواں کھدوایا جائے جہاں پانی کی ضرورت ہو۔ 

الغرض جن کاموں میں طویل ثواب کی امید ہو وہ کام کریں، جب تک صدقہ جاریہ والی چیز رہے گی ثواب بھی جاری رہے گا۔

مرقات میں ہے:

"(وعن سعد بن عبادة قال: يا رسول الله إن أم سعد) أراد به نفسه ( «ماتت، فأي الصدقة أفضل» ؟) أي لزوجها (قال: الماء) إنما كان الماء أفضل لأنه أعم نفعا في الأمور الدينية والدنيوية خصوصا في تلك البلاد الحارة، ولذلك من الله تعالى بقوله: {وأنزلنا من السماء ماء طهورا} [الفرقان: 48] كذا ذكره الطيبي، وفي الأزهار: الأفضلية من الأمور النسبية، وكان هناك أفضل لشدة الحر والحاجة وقلة الماء."

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4 / 1342), (باب فضل الصدقة), كتاب الزكاة, الناشر: دار الفكر، بيروت - لبنان)

وفيه ايضا:

"(جارية) يجري نفعها فيدوم أجرها كالوقف في وجوه الخير، وفي الأزهار قال أكثرهم: هي الوقف وشبهه مما يدوم نفعه، وقال بعضهم: هي القناة والعين الجارية المسبلة. قلت: وهذا داخل في عموم الأول، ولعلهم أرادوا هذا الخاص لكن لا وجه للتخصيص."

(كتاب العلم، الفصل الأول، ج:1، ص:285،ط: دار الفكر)

شرح النووی  ميں ہے:

"قال العلماء معنى الحديث أن عمل الميت ينقطع بموته وينقطع تجدد الثواب له إلا في هذه الأشياء الثلاثة لكونه كان سببها فإن الولد من كسبه وكذلك العلم الذي خلفه من تعليم أو تصنيف وكذلك الصدقة الجاريةوهي ‌الوقف."

(كتاب الوصية، باب ما يلحق الإنسان من الثواب بعد وفاته،ج:11، ص:85، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144505101306

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں