بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مرحوم والدین کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا


سوال

 کیا  مرحوم  والدین کی طرف سے صدقۃ الفطر ادا کرنا جائز ہے؟

جواب

صدقہ فطر صرف زندہ لوگوں پر واجب  ہوتا ہے  مرحومین پر نہیں ہوتا ،البتہ اگر  زندگی میں جو صدقہ فطر ادا کرنا تھا،وہ ادا نہیں کیااور اس کے ادا کرنے کی  وصیت کی ہے،تو  ایک تہائی ترکہ سے ادا کرنا ضروری ہے،اور  اگر میت/والدین نے وصیت نہیں کی تو  ورثاء  اجتماعی یا انفرادی طور پر ادا  کرنا چاہیں تو اداکر سکتے ہیں،اور یہ میت/والدین پر احسان ہوگا،باقی مرحوم والدین  کے  ایصالِ ثواب کے لیےعام صدقہ خیرات کرنا درست ہے،اس سے مرحوم والدین کو بہت بڑا فائدہ ہوگا۔ 

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: تجب على حر مسلم ذي نصاب فضل عن مسكنه وثيابه وأثاثه وفرسه وسلاحه وعبيده)."

[کتاب الزکوۃ، باب: صدقة الفطر،عن من تخرج صدقة الفطر،ج2 ص271 ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطی (من ثلث ماله). قال ابن عابدين: (قوله: يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة، فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك؛ لأنها عبادة، فلا بد فيها من الاختيار. (قوله: وإنما يعطي من ثلث ماله) أي فلو زادت الوصية على الثلث لا يلزم الولي إخراج الزائد إلا بإجازة الورثة."

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج2،ص72/73، ط: سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي البحر: من صام أو صلی أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع ."

 (كتاب الصلوة،باب صلاة الجنازة،مطلب فی القراءۃ للمیت واہداء ثوابها لہ، ج 2 ص243  ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101733

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں