بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مرحوم کی پینشن کا استعمال


سوال

میرے والد سرکاری ملازم تھے 2007 میں انتقال کر گئے، جب کہ والدہ کا انتقال 2004 میں ہو چکا ہے، انتقال کے بعد والد صاحب کی ماہانہ پنشن پھوپھی کے نام کی گئی جو کے میری ساس بھی ہے، پھوپھی نے پنشن کی مد میں ملنے والی رقم مجھے دینے کی حا می بھر ی، اور کچھ عرصہ وہ دیتی رہی جو کے ہم تین بھائی آپس میں برابر تقسیم کر تے رہے ، بعد میں انہوں نے پنشن کی رقم دینا بند کر دی ، اور والد صاحب کی پنشن پھوپھی اور میری بیوی نے رکھنا شروع کر دی، میری بیوی پنشن کی رقم اپنی مرضی سے خرچ کرتی ہے، اور میرے بچوں کو بھی دیتی ہے، اس سارے معاملے میں میری اور میرے بھائیوں کی رضا شامل نہیں ہے،میں اپنی بیوی کو ماہانہ خرچ باقاعدگی سے دیتا ہوں، گھر اور بچوں کے تمام اخراجات میں اٹھاتا ہوں، اب اس سارے معاملے میں پھوپھی اور بیوی کا میرے والد صاحب کی پنشن کی رقم استعمال کرنا کیسا ہے؟ شریعت کے مطابق کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ملازمین یا ان کے بعد ان کے لواحقین کو ملنے والی پینشن کی رقم  متعلقہ ادارہ کی طرف سے عطیہ اور تبرع ہوتی ہے، ادارہ  جس کے نام پر جاری کرے وہی اس کا مالک ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ میں سائل کے مرحوم والد  کی  پینشن سائل کے پھوپھی کے نام جاری ہو چکی  ہے،لہذا یہ  سائل کی پھوپھی کا حق  ہے،اور وہ اسے لے سکتی ہیں اور اپنی مرضی سے جس کو چاہے دے سکتی ہیں،لیکن اگرپھوپھی نے  وعدہ کیا تھاکہ پینشن کی رقم میں تمہیں دوں گی تو سائل کے پھوپھی کو بلاعذر وعدہ خلافی نہیں کرنی چاہیے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته»ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا، والله سبحانه وتعالى أعلم."

(کتاب الحدود، فصل فی شرائط جواز اقامة الحدود، ج:7 ص: 57 ط: دار الکتب العلمیة)

امداد الفتاوی میں ہے:

"چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسانِ سرکار ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہیں تقسیم کردے۔"

( کتاب الفرائض، عنوان: عدم جریان میراث در وظیفہ سرکاری تنخواہ، ج:4 ص:343  ط: دارالعلوم)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101576

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں