بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 صفر 1444ھ 24 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

مرحوم بھائی کی بیوہ کو دیور کا اپنے گھرمیں ٹھہرانا


سوال

میرے چھوٹے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے ، مرحوم کراچی میں  رہائش پذیر تھے ، ان کے بیوی بچے بھی کراچی میں ان کے ساتھ رہتے تھے ، مرحوم کی بیوی  کی ایک اور بہن کی شادی مرحوم کے بڑے بھائی کے ساتھ ہوئی ہے ، اب مرحوم کے بڑے بھائی چاہتے ہیں کہ مرحوم بھائی کی بیوی اور بچوں کو وہ اپنے ساتھ پنجاب  لے جائے اور اپنے ساتھ ان کو گھر میں رکھے جبکہ میرایہ بھائی میرے مرحوم بھائی بہنوئی اور جیٹھ بھی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا شرعی لحاظ سے میرے مرحوم بھائی کی بیوہ اور ان کے بچے میرے بڑے بھائی کے گھر رہ سکتے ہیں یا نہیں ؟نیز  مرحوم بھائی کا کراچی میں ایک ذاتی مکان ہے جس میں وہ رہائش پذیر تھے تو کیاتب بھی ان کا اس گھر میں رہناضروری ہے یا نہیں ؟

جواب

سائل کے مرحوم بھائی کی بیوہ سائل کےبڑے بھائی کے لیےنامحرم ہے،لہٰذا سائل بڑے بھائی کے لیے اس کو اپنے گھر میں ٹھہراناجائز نہیں ہے۔بیوہ پر خود اپنی رہائش کا بندوبست لازم ہے اور وہ مرحوم کےترکہ میں موجود مکان میں اپنے اور اپنی اولاد کو    ملنے والے حصے کے بقدر مکان  میں اپنی اور بچوں کی  رہائش کا بندوبست کرسکتی ہے۔بصورت دیگر اسے رہائش دینا اس کے اپنے قریبی اقرباء کے ذمے ہے۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن عقبة بن عامر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إياكم والدخول على النساء، فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو؟، قال: الحمو الموت."

ترجمہ:  حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:عورتوں کے پاس داخل ہونے سے پرہیز کرو ، ایک انصاری شخص نے عرض کیا:  یا رسول اللہ ﷺ ،"دیور" کے بارے میں  کیا ارشاد ہے؟  آپ نے فرمایا :’’دیور‘‘ تو موت ہے۔

(‌‌أبواب النكاح، باب ما جاء في كراهية الدخول على المغيبات، 466/3، ط: شركة مكتبة)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا لا يبيتن رجل عند امرأة ثيب، إلا أن يكون ناكحا أو ذا محرم."

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: خبر دار! کوئی مرد کسی عورت کے پاس نہ ٹھہرے مگر یہ کہ وہ اس کا شوہر ہو یا اس کا  محرم ہو۔

(كتاب السلام،باب تحريم الخلوة بالأجنبية والدخول عليها،1710/4، ط:  دارإحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101091

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں