بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مرحوم بیٹی کے نام پر قربانی کرنا


سوال

کیا میں اپنی مرحومہ بیٹی کے نام پر قربانی کر سکتا ہوں؟ 

جواب

کوئی عاقل بالغ شخص اپنی خوشی سےاپنی طرف سے میت کے لیے قربانی کرتا ہے تو  یہ قربانی حقیقت میں قربانی کرنے والی کی طرف سے ہوگی اور اس کا ثواب میت کو پہنچے گا، اور اس قربانی کا گوشت مال دار اور فقیر سب کھاسکتے ہیں۔  

 لہٰذا صورت ِمسئولہ میں سائل مرحوم بیٹی کی طرف سےایصال ثواب کی نیت سے قربانی کرسکتا ہے۔

 جمع الجوامع المعروف بـ (الجامع الكبير)میں ہے: 

"عن الحكم عن حنش قال: ‌ضحي ‌علي - رضي الله عنه - بكبشين، كبش عن النبي - صلى الله عليه وآله وسلم، وكبش عن نفسه."

(مسانيد الصحابة، مسند على بن أبى طالب رضي الله عنه، ج:17، ص:372، ط: الأزهر الشريف، القاهرة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وإن) (مات أحد السبعة) المشتركين في البدنة (وقال الورثة اذبحوا عنه وعنكم) (صح) عن الكل استحسانا لقصد القربة من الكل ....... (قوله لقصد القربة من الكل) هذا وجه الاستحسان. قال في البدائع لأن الموت لا يمنع التقرب عن الميت بدليل أنه يجوز أن يتصدق عنه ويحج عنه، وقد صح «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لم يذبح من أمته» وإن كان منهم من قد مات قبل أن يذبح اهـ ........ من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في أضحية نفسه من التصدق والأكل والأجر للميت والملك للذابح.  قال الصدر: والمختار أنه إن بأمر الميت لايأكل منها وإلا يأكل، بزازية، وسيذكره في النظم."

( فتاوی شامی ،كتاب الاضحية،ج:،6، ص:326، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511101740

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں