بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مردوں کو اپنی عورتوں کے انڈرگارمینٹس خریدنا چاہیے


سوال

کیا خواتین کے  لباس کے اندر  پہنے جانے والے خاص کپڑے     بازار سے خریدے جا سکتے ہیں،اور احادیث وغیرہ میں ان کپڑوں کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کیا ترتیب تھی ؟

جواب

خواتین کے لباس کے اندر پہنے جانے والے خاص کپڑے  بازار سے خریدنے میں شرعًا کوئی حرج نہیں ہے،  البتہ خواتین کو غیر مردوں سے نہیں خریدنا  چاہیے، بلکہ اپنے  گھر  کے مردوں سے  منگوانے چاہییں، اس قسم کے کپڑے  غیرمحرم دکانداروں  سے خریدنا شرم و حیا کے خلا ف ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن دحية بن خليفة قال: أتى النّبِيّ صلَّى اللَّه عليه وسلّم بقباطيّ فأعْطاني منها قبطِيّة،قال: «اصدعها صدعيْن فاقْطعْ أحدهما قمِيصا وَأعْط الْآخر امْرأتك تخْتمر به». فلمّا أدْبر قال: «وأْمر امْرأَتك أنْ تجْعل تحتَه ثوْبًا لَايصِفها» . روَاه أبو داود".

(‌‌كتاب اللباس، ‌‌الفصل الثاني، ج: 2، ص:249، الرقم:4366، ط: المكتب الإسلامي)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"(قال): أي النبي له (وأمر): أمر من الأمر (امرأتك أن تجعل تحته ثوبا لايصفها): بالرفع على أنه استئناف بيان للموجب، وقيل بالجزم على جواب الأمر، أي لاينعتها ولايبين لون بشرتها لكون ذلك القبطي رقيقًا، ولعل وجه تخصيصها بهذا اهتمام بحالها، ولأنها قد تسامح في لبسها بخلاف الرجل، وفإنه غالبًا يلبس القميص فوق السراويل والإزار. (رواه أبو داود)".

(كتاب اللباس، ج: 7، ص: 790، الرقم: 4366، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410100403

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں