بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مردوں کے لیے بال کٹوانے کے احکام


سوال

مردوں کے لیے سر کے بال کٹوانے کے لیے شرعی احکامات کیا ہیں؟ نیز اطراف سے سر کے بعض حصہ کے کچھ بال کٹوانے کا کیا حکم ہے؟تفصیل سے آگاہ کیجیے۔

جواب

واضح رہے کہ عام طور پر  عرب میں بال رکھنے کا دستور تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم بال رکھتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کانوں کی لو اور کندھوں کے درمیان تک لمبے بال رکھنا ثابت ہے ۔ احرام سے حلال ہوتے وقت منڈانا بھی ثابت ہے اور  اس حالت میں بال ترشوانے کی بھی گنجائش ہے اورایسے وقت میں منڈوانے کو ترشوانے پر ترجیح دی ہے۔ کچھ منڈانا کچھ باقی رکھنے کو منع فرمایا  ہے ۔(ماخوذ من فتاوی محمودیہ بتغییر یسیر)

لہذا بال رکھنے کے متعلق حکم یہ ہی ہے کہ منڈوائے تو تمام منڈوائے، رکھے تو تمام رکھے۔ زیادہ بڑے ہوجائیں اور منڈوانا نہ چاہے تو یہ بھی درست ہے کہ چھوٹے چھوٹے کرادے ۔ اس بات کا خیال رکھے کہ انگریزی یا فیشن والے بال نہ رکھے ، اسی طرح  سر کے اطراف سے کچھ بال کٹوانا اور باقی کو نہ کٹوانا ایسا کرنا بھی درست نہیں ہے کیوں کہ یہ اسی صورت کے قریب قریب ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ بعض حصہ کو منڈوایا جائے اور بعض حصہ کو نہ منڈوایا جائے۔

مرقاة المفاتيح  میں ہے:

"وعن ابن عمر - رضي الله عنهما - «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - رأى صبيا قد حلق بعض رأسه وترك بعضه، فنهاهم عن ذلك، وقال: " احلقوا كله أو اتركوا كله»". رواه مسلم

(کتاب اللباس باب الترجل ج نمبر ۷ ص نمبر ۲۸۱۸،دار الفکر)

مرقاة المفاتيح  میں ہے:

"وعن عائشة - رضي الله عنها - قالت: كنت أغتسل أنا ورسول الله - صلى الله عليه وسلم - من إناء واحد، وكان له شعر فوق الجمة، ودون ‌الوفرة» . رواه الترمذي."

(کتاب اللباس باب الترجل ج نمبر ۷ ص نمبر ۲۸۳۱،دار الفکر)

ــمرقاة المفاتيح  میں ہے:

"وعن البراء رضي الله عنه، قال: «كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مربوعا، بعيد ما بين المنكبين، له شعر بلغ شحمة أذنيه، رأيته في حلة حمراء، لم أر شيئا قط أحسن منه» . متفق عليه.

وفي رواية لمسلم، قال: «ما رأيت من ذي لمة أحسن في حلة حمراء من رسول الله - صلى الله عليه وسلم - شعره يضرب منكبيه، بعيد ما بين المنكبين ليس بالطويل ولا بالقصير»

وعن البراء قال: كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مربوعا) ، أي: قريبا منه، وإلا فهو أطول منه (بعيد ما بين المنكبين) روي مكبرا ومصغرا، وروي منصوبا على أنه خبر ثان لكان، ومرفوعا على حذف المبتدأ (له شعر بلغ شحمة أذنيه) ، أي: وصلها. وفي رواية ابن ماجه والترمذي في الشمائل، عن عائشة رضي الله عنها: كان شعره دون الجمة وفوق ‌الوفرة، والجمة من شعر الرأس: ما سقط على المنكبين، والوفرة: شعر الرأس إذا وصل إلى شحمة الأذن، ولعل اختلاف الروايات باعتبار اختلاف الحالات."

(کتاب الفضائل ج نمبر ۹ ص نمبر ۳۷۰۱،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310100535

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں