بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

مردوں کا نماز میں ٹخنوں کو ڈھانپنا


سوال

کچھ لوگ نماز میں اپنی شلوار یا پینٹ کے پائنچوں کو موڑتے ہیں، میں نے سنا ہے کہ نماز میں کپڑوں کو موڑنا rsquorsquoکف ثوبlsquolsquoکے زمرے میں آتا ہے اور دوران نماز ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے، کیا ایسے کرنے سے نماز میں کوئی فرق پڑتاہے یا نہیں

جواب

ٹخنوں کو نمازہو یا عام حالات میں کھلا رکھنے کا شریعت میں حکم ہے،ڈھانپنا سخت گناہ ہے۔ البتہ مذکورہ طریقہ پر نماز شروع کرنے سےپہلے ٹخنوں کو کھلا رکھنے کے لیے شلواریاپائجامہ کو اوپر کی طرف موڑنا درست ہےبلکہ ایک لحاظ سے غنیمت بھی ہے کیونکہ جو لوگ عام حالات میں اس کی پرواہ نہیں کرتے جبکہ انہیں کرنی چاہیے۔ وہ لوگ کم ازکم نماز کے دوران ایسا کرتے ہیں تو یہ کم از کم نماز کےدوران ٹخنوں کو چھپانے کے گناہ سے بچے رہیں گے اورنماز بھی کراہت سے محفوظ ہوجائے گی۔ باقی کف ثوب کی جو کراہت وشناعت کتب فقہ میں مذکور ہے اس سے مراد یہ ہے کہ کہ نمازکے دوران کپڑے سمیٹنے کا عمل مکروہ ہے جیسے بعض لوگ مٹی اور دھول سے کپڑے بچانے کے لیے کیا کرتے ہیں۔ دونوںمسئلے الگ الگ ہیں انہیں اپنی جگہ پر رکھ کر سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اشکال کی کوئی بات نہیں ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200115

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں