بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مردوں کابلاعذرعورتوں کی طرف سے رمی کرنے کا حکم


سوال

حج میں کچھ عورتوں نے تینوں دن رمی نہیں کی، ان کے مردوں نے ان کی طرف سے اداء کی، کیا ان عورتوں کی طرف سے ادا ہوگئی؟ اگرنہیں تو دم واجب ہوگا ؟ اورکتنا واجب ہوگا ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگرمذکورہ عورتیں بوقت رمی معذور نہیں تھیں کہ خودہی رمی کرسکتی تھیں۔اس کے باوجوددوسروں نے ان کی طرف سے رمی کی تو ایسی صورت میں ان کی رمی اداء نہیں ہوئی ،ان پر دم واجب ہے ۔ حدودحرم میں ہر ایک اپنی طرف سے ایک بکری بطور دم اداء کریں ،فتاویٰ عالمگیری میں ہے : ولوترک الجمار کلھا اٴو رمی واحدة اٴو جمرة العقبة یوم الفخر فعلیہ شاة ۔ص:247۔ج1،ط،رشیدیہ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200167

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے