بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

مردوں کے لیے شوقیہ چاندی کی انگوٹھی پہننے کا حکم


سوال

آیا مرد کے لیے شوقیہ ساڑھے چار ماشے چاندی کی انگوٹھی پہننا درست ہے؛ کیوں کہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ  حضور ﷺ نے بوجہ ضرورت انگوٹھی پہنی تھی مہر لگانے کے لیے؛ لہذا شوقیہ چاندی کا ساڑھے چار ماشے کا چھلا پہننا مرد کے لیے حرام ہے!

جواب

شوقیہ طور پر ساڑھے چار ماشہ سے کم وزن کی چاندی کی انگوٹھی پہننا مردوں کے لیے جائز ہے، حرام نہیں ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ چاندی مسلمانوں کی زینت ہے۔ البتہ فقہاءِ کرام نے یہ لکھا ہے کہ بلاضرورت مرد کے لیے چاندی کی انگوٹھی بھی خلافِ اولٰی ہے۔

فيض القدير (3 / 573):

"(الذهب حلية المشركين) أي زينتهم وسميت الحلية زينة لأنها تزين العضو المحلى بها في أعين الناظرين وتحسنه في قلوبهم (والفضة حلية المسلمين) فيحل اتخاذ الخاتم للرجال منها بل تمسك بإطلاقه ابن القيم فجوز حل التحلي بها للرجال مطلقًا، (والحديد حلية أهل النار) أي قيود أهل النار وسلاسلهم منه، وإلا فأهل النار لايحلون فيها، قال ابن القيم: والذهب زينة الدنيا وطلسم الوجود ومفرح الوجود ومقوي الظهور وسر الله في أرضه وفيه حرارة لطيفة تدخل في سائر المعجونات الملطفة والمفرحة وهو أعدل المعدنيات على الإطلاق وأشرفها وهو والفضة طلسم الحاجات وصاحبهما مرموق في العيون معظم في النفوس والفضة من الأدوية المفرحة النافعة من الهم والغم وضعف القلب وخفقانه.

(الزمخشري) بفتح الزاي والميم وسكون الخاء وفتح الشين المعجمتين نسبة إلى زمخشر قرية كبيرة بخوارزم وهو العلامة العديم النظير محمود بن عمر المضروب به المثل في علوم الأدب والقرآن وديوان شعره مشهور (في جزئه عن أنس) ورواه عنه أيضا الديلمي لكن بيض ولده لسنده."

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144204201045

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں