بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مرد کے لئے عورت کے سلام کا جواب دینا


سوال

محترم جناب مفتی صاحب میرا سوال یہ ہیکہ: کیا عورت اگر خود سلام کرے مرد کو تو کیا مرد کو خواہ وہ محرم ہو یا غیر محرم ہو دینا چاہئے یا نہیں اسی طرح سے اگر عورت کو چھینک آئے تو کیا مرد اسکا جواب بلند آواز سے دے یا سرّا دے یا دے ہی نہیں ، نیز گھر کے اندر پردے کا اہتمام کس طرح کرایا جائے، نیز غیر محرم عورت سے کسی وجہ کے تحت بات کرنا صحیح ہے مثلا لیڈی ڈاکٹر وغیرہ، براہ کرم ان مسئلوں سے ہمیں آگاہ فرمایئں

جواب

صورت مسئولہ میں نامحرم عورتوں کو سلام کر نا چاہئیے ، اور اگر نامحرم عورت سلام کرے تو دل ہی دل میں جواب دیدے ، زبان سے جواب نہ دے، اور اگر بوڑھی عورت ہو تو زبان سے بھی جواب دے سکتے ہیں نیز یہی حکم چھینک کے جواب کا بھی ہے کہ: اگر نامحرم عورت کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو اس کا جواب بھی دل ہی دل میں دے دے ، فتاویٰ شامی میں ہے: رد السلام واجب الا۔۔۔۔۔ شابۃ یخشیٰ بھا افتتان، شامی:۱۸۱۶ ۔ ط: سعید کراچی باقی نامحرم اجنبیہ عورت سے بوقت ضرورت ، بقدر ضرورت بات کرنے کی اجازت ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200338

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے