بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مرد ڈاکٹرکے خواتین کا علاج کرانے کا شرعی حکم


سوال

ہمارا ہسپتال رٹائرڈ فوجی افسران کی فیملیوں کا علاج کرتا ہے جس کی وجہ سے خواتین مریضوں  کی تعداد مرد مریضوں سے کافی زیادہ رہتی ہےلیکن مرد مریض بھی  آتے ہیں، تو کیا ایسے ہسپتال میں بطور ڈاکٹر کام کرنا جائز ہوگا ؟ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کے آج کل ہسپتالوں میں ایسا کو ئی  نظام موجود نہیں جس میں مرد ڈاکٹر مرد کو ہی چیک کرے اور خاتون کو خاتون کوالبتہ یہ ہے کے ہمارے ہسپتال میں اکثر خواتین جو  آتی  ہیں ان  کی عمر 40 یا 50 سے زائد ہی ہوتی ہے،ایسے ہسپتال میں کام کرنا اور اس کی کما ئی  حلال ہوگی یا نہیں؟

جواب

 واضح  رہے کہ مرد کا عورت کے علاج کرنے کے سلسلے میں  شریعتِ مطہر ہ  کی تعلیمات یہ ہے کہ  ماہر ڈاکٹر خاتون  موجو د ہوتو اسی  کے ذریعہ بیمار خاتون کا علاج کرنا  ضروری ہوگا،خاتون ڈاکٹر  کی عدمِ موجودگی میں   کسی  معتمد غیر مسلم خاتون  سے علاج  کرادیا جائے گا ، وہ بھی موجود نہ ہو  تو مسلم ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے گا ،مسلم مرد ڈاکٹر بھی  موجود نہ ہوتو غیرمسلم  ڈاکٹر کی خدمات  حاصل کی جائے گی ، البتہ مرد کا خاتون مریضہ کے علاج کرنے  کی صورت میں مرض کی تشخیص  وغیرہ میں  صرف اسی قدر حصہ دیکھنے کی اجازت ہوگی جس قدر ضروری ہے، اس سے زائد حصہ کھولنے کی  اجازت نہیں ہوگی ،اسی طرح  بقدرِ استطاعت نگاہ نیچی رکھنا بھی ضروری  ہوگا،لہٰذ ا صورتِ مسئولہ میں سائل جس ہسپتال میں  ڈاکٹر ہے اگر اس  میں خاتون ڈاکٹر موجود ہو تو علاج کے لیے آنے والی خواتین کے لیے اسی سے اپنا علاج کروانا ضروری ہے ، خواتین ڈاکٹر  نہ ہونے کی صورت میں سائل  ان کا مذکورہ بالا    ہدایات کے مطابق علاج کرسکتاہےا ور یہ کمائی بھی حلال ہوگی۔

 فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ويجوز النظر إلى الفرج للخاتن وللقابلة وللطبيب عند المعالجة ويغض بصره ما استطاع، كذا في السراجية. ... امرأة أصابتها قرحة في موضع لايحل للرجل أن ينظر إليه لايحل أن ينظر إليها لكن تعلم امرأة تداويها، فإن لم يجدوا امرأة تداويها، ولا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت وخيف عليها البلاء أو الوجع أو الهلاك، فإنه يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع، ولا فرق في هذا بين ذوات المحارم وغيرهن؛ لأن النظر إلى العورة لايحل بسبب المحرمية، كذا في فتاوى قاضي خان". 

(ج:5، ص: 330، ط: دارالفکر)

البحرائق میں ہے:

"والطبيب إنما يجوز له ذلك إذا لم يوجد امرأة طبيبة فلو وجدت فلا يجوز له أن ينظر لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف."

(ج:8، ص: 218، ط: دارالکتاب الاسلامي)

فقط واللہ  أعلم


فتوی نمبر : 144505100901

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں