بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مرض الموت میں خلع کی صورت میں میراث اور یک طرفہ عدالتی خلع کا حکم


سوال

1۔اگر کوئی شخص مرض الموت میں مبتلا ہو اور اس کی بیوی اس سے خلع کرنے کا مطالبہ کرے اور وہ شخص مرض الموت میں اس کے ساتھ خلع کرے تو کیا اس شخص کی میراث میں اس  عورت کا حصہ ہوگا یا نہیں؟ 

2۔  اگر وہ شخص اس کے ساتھ خلع نہیں کرتا اور وہ عدالت کے ذریعے خلع کا ڈگری لے لے تو پھر میراث کا کیا حکم ہے ؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے بیوی کے مطالبے پر اسے خلع دی ہو تو بیوی اس شخص کی میراث کی حق دار نہیں ہوگی، اگر چہ اس شخص کا انتقال اس عورت کی عدت میں ہوجائے۔

2۔شوہر کی رضامندی کے بغیر  یک طرفہ  عدالتی خلع شرع معتبر نہیں ہوتا؛  لہذا میراث کی حق دار ہوگی۔

مبسوط للسرخسی میں ہے:

"وإن اختلعت، وهي صحيحة والزوج مريض، فالخلع جائز بالمسمى قل، أو كثر؛ لأنه لو طلقها بغير عوض، كان صحيحا، فبالعوض القليل، أولى، ولا ميراث لها منه؛ لأن الفرقة إنما وقعت بقبولها، فكأنه ‌طلقها ‌بسؤالها."

(كتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6، ص:193، ط:دار المعرفة)

المحیط البرہانی میں ہے:

"إذا ‌طلّقها ‌بسؤالها فلا ميراث لها. وكذلك إذا وقعت الفرقة بمعنى من قبلها فلا ميراث لها؛ لأنّا إنّما أبقينا النكاح في حقّ الإرث مع وجوب القاطع ديانة لحقّها، وقد رضيت ببطلان حقّها بسؤالها الطلاق."

(‌‌كتاب الطلاق، ‌‌الفصل العشرون: في طلاق المريض، ج:3، ص:411، ط:دار الكتب العلمية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌وأما ‌ركنه ‌فهو ‌الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."

(كتاب الطلاق، فصل في ركن الخلع، ج:3، ص:229، ط: دار إحياء التراث العربي)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"في الملخص و الايضاح: الخلع عقد يفتقر إلى الإيجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض".

( كتاب الطلاق، الفصل السادس العشر في الخلع، ج:3، ص:28، ط: دار الكتب العلمية )

فتاویٰ شامی میں ہے:

"‌فقالت: ‌خلعت ‌نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده."

(كتاب الطلاق، ‌‌باب الخلع، ج:3، ص:440، ط: سعيد)

البحرالرائق میں ہے:

"قال - رحمه الله - (‌وللزوجة ‌الربع) أي للزوجة نصف ما للزوج فيكون لها الربع حيث لا ولد ومع الولد أو ولد الابن.

وإن سفل الثمن لقوله تعالى {ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم} [النساء: 12] وإذا كثرن وقعت المزاحمة بينهن فيصرف عليهن جميعا على السواء لعدم الأولوية فصار للزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد."

(كتاب الفرائض، أنواع الحجب، ج:8، ص:563، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503103023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں