بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1445ھ 02 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

میرال اور زیمل نام رکھنا کیسا ہے؟


سوال

میری بیٹیوں کے نام میرال(مرال) اور زیمل (زمل) ہیں ،کیا یہ نام درست ہیں ؟ان کا مطلب اور اردو اور انگریزی میں کیسے لکھتے ہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں "میرال":  عربی لغات میں تلاش کے باوجود کسی مناسب معنی کے لیے ان کا استعمال نہیں ملا۔ لہٰذا یہ نام نہ رکھا جائے۔

نیزعربی لغت میں لفظ ’’زیمل‘‘ کے بجائے لفظ ’’زمل‘‘ استعمال ہوتا ہے، ’’زِمل‘‘  زا کے زیر اور  میم کے سکون کے ساتھ، بوجھ، کم زور، سست، کم تر کے معنی میں ہے، اور ’’زُمَل‘‘  زاء کے پیش اور میم کے فتحہ کے ساتھ بزدل، کم زور اور کمینہ کے معنیٰ میں ہے؛  اس لیے یہ نام رکھنا مناسب نہیں۔

البتہ ’’زَمَل‘‘ زاء اور لام دونوں کے فتحہ کے ساتھ تیزی کے معنیٰ میں ہے۔ اس مادے کا ایک معنیٰ کسی کے پیچھے چلنا، کسی کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھانا، کسی کا ساتھی ہونا وغیرہ بھی ہے۔ اس اعتبار سے ’’زَمَل‘‘ (zamal) نام رکھنا درست ہے، لیکن زیادہ اچھا یہ ہے کہ بچیوں کے نام ازواجِ مطہرات اور صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی کے نام پر یا کم از کم اچھے معنی والا عربی نام رکھا جائے۔

تاج العروس میں ہے:

والزمل، بالكسر: الحمل،)وفي حديث أبي الدرداء: إن فقدتموني لتفقدن زملا عظيما، يريد حملا عظيما من العلم، قال الخطابي: ورواه بعضهم: زمل، بالضم والتشديد، وهو خطأ.

(ز م ل، ج:۲۹، ص: ۱۴۱، ط: دار الهدايه)

لسان العرب میں ہے:

"والزمل: الكسلان. والزمل والزمل والزميل والزميلة والزمال: بمعنى الضعيف الجبان الرذل؛ قال أحيحة:ولا وأبيك ما يغني غنائي، ... من الفتيان، زميل كسول وقالت أم تأبط شرا: وا ابناه وا ابن الليل، ليس بزميل، شروب للقيل، يضرب بالذيل، كمقرب الخيل. والزميلة: الضعيفة. قال سيبويه: غلب على الزمل الجمع بالواو والنون لأن مؤنثه مما تدخله الهاء. والزمل: الحمل. وفي حديث أبي الدرداء: لئن فقدتموني لتفقدن زملا عظيما؛ الزمل: الحمل، يريد حملا عظيما من العلم؛ قال الخطابي: ورواه بعضهم زمل، بالضم والتشديد، وهو خطأ. أبو زيد: الزملة الرفقة؛ وأنشد: لم يمرها حالب يوما، ولا نتجت ... سقبا، ولا ساقها في زملة حادي النضر: الزوملة مثل الرفقة. والإزميل: شفرة الحذاء؛ قال عبدة بن الطبيب: عيرانة ينتحي في الأرض منسمها، ... كما انتحى في أديم الصرف إزميل ورجل إزميل: شديد الأكل، شبه بالشفرة، قال طرفة: تقد أجواز الفلاة، كما ... قد بإزميل المعين حور والحور: أديم أحمر، والإزميل: حديدة كالهلال تجعل في طرف رمح لصيد بقر الوحش.

(فصل الزاي المعجمة ، ج: ۱۱، ص: ۳۱۱، ط: دار صادر - بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501100495

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں