بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1444ھ 05 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

منی بستر پر خشک ہوجانے کی صورت میں اس پر بیٹھنے سے کپڑے کی پاکی اور غسل کا حکم


سوال

اگر منی بستر پر لگے اور خشک ہوجائے تو کیا اس پر بیٹھنے یا سونے سے غسل فرض ہوجاتا ہے؟

جواب

منی ناپاک ہے، اور یہ اگر کپڑے یا بستر پر لگ جائے  تو  وہ  ناپاک ہوجائیں گے، اور اس کو پاک کرنے  کے دو طریقے  ہیں:

(1)  اگر رقیق یعنی نرم اور پتلی   ہوتو  اس کو دھو کر پاک کرنا ضروری ہے، اس طور پر کہ تین مرتبہ دھویا جائے اور ہرمرتبہ نچوڑا بھی جائے، یہاں تک کہ اس کا اثر (چکناہٹ وغیرہ) زائل ہوجائے۔ دھوئے  بغیر اور کوئی چارہ نہیں۔

(2)   منی اگر گاڑھی ہو اور خشک ہوکر سوکھ جائے تو ایسی صورت میں اس کو کھرچ کر یعنی  رگڑکر اس کے  اثرات زائل کرنے  سے بھی  کپڑا پاک ہوجائے گا، اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت کتب حدیث میں موجود ہے، اور یہ حکم غلیظ  (گاڑھی)  منی کے ساتھ خاص ہے اور اگر منی کسی بیماری یا کسی اور  وجہ  سے رقیق (پتلی) ہوگئی ہوتو دھونا ضروری ہوگا۔

باقی اگر منی بستر پر  لگ کر خشک ہوجائے تو اس  پر بیٹھنے سے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے اور  نہ ہی غسل فرض ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 312، 313):

’’(ويطهر مني) أي: محله (يابس بفرك) ولايضر بقاء أثره (إن طهر رأس حشفة) كأن كان مستنجيا بماء.... (وإلا) يكن يابساً أو لا رأسها طاهراً (فيغسل) كسائر النجاسات ولو دماً عبيطاً على المشهور (بلا فرق بين منيه) ولو رقيقاً لمرض به (ومنيها) ولا بين مني آدمي وغيره كما بحثه الباقاني (ولا بين ثوب) ولو جديداً أو مبطناً.

(قوله: بفرك) هو الحك باليد حتى يتفتت بحر. (قوله: ولايضر بقاء أثره) أي: كبقائه بعد الغسل، بحر.

(قوله: بلا فرق) أي: في فركه يابساً وغسله طرياً (قوله: ومنيها) أي: المرأة كما صححه في الخانية، وهو ظاهر الرواية عندنا كما في مختارات النوازل وجزم في السراج وغيره بخلافه ورجحه في الحلية بما حاصله: إن كلامهم متظافر على أن الاكتفاء بالفرك في المني استحسان بالأثر على خلاف القياس، فلايلحق به إلا ما في معناه من كل وجه، والنص ورد في مني الرجل ومني المرأة ليس مثله لرقته وغلظ مني الرجل، والفرك إنما يؤثر زوال المفروك أو تقليله وذلك فيما له جرم، والرقيق المائع لايحصل من فركه هذا الغرض فيدخل مني المرأة إذا كان غليظاً ويخرج مني الرجل إذا كان رقيقاً لعارض اهـ

أقول: وقد يؤيد ما صححه في الخانية بما صح «عن عائشة - رضي الله عنها - كنت أحك المني من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم و هو يصلي» ولا خفاء أنه كان من جماع؛ لأن الأنبياء لاتحتلم، فيلزم اختلاط مني المرأة به، فيدل على طهارة منيها بالفرك بالأثر لا بالإلحاق فتدبر."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200236

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں