بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

منیعہ نام رکھا


سوال

میری بیٹی کا نام منیعہ ہے،میں نے اپنی بیٹی کا نام اس ویب سائٹ سے صحابیات کے ناموں میں سے دیکھ کر رکھا ہے،اس کا مطلب بتا دیں۔

جواب

اسد الغابۃ میں "منیعہ"صحابیہ کانام نقل کیا گیا ہےاوران کی بیٹی (قریبہ ) ان سے رویت کرتی ہیں۔

"منیعہ" محفوظ اور مضبوط کے معنی میں ہے۔

(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ ،کتاب النساء،حرف المیم ،262/7،رقم:7304،دارالکتب العلمیہ)

کتاب العین میں ہے:

"وامرأة ‌منيعة: متمنّعة لا تؤاتى على فاحشة، قد منعت مناعة، وكذلك الحصن ونحوه. ومنع مناعة إذا لم يرم."

(کتاب العین،163/2،دار و مکتبۃ الہلال )

سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ واثرہا السیئ فی الامۃ میں ہے:

"‌‌5301 - (يا أمة الله! أسفري؛ فإن الإسفار من الإسلام، وإن النقاب من الفجور) .منكرأخرجه ابن منده في "المعرفة" (2/ 346/ 2) : أخبرنا محمد بن محمد يعقوب - في كتابه إلينا -: أخبرنا عبد الله بن محمد الوراق البغدادي: أخبرنا يحيى بن أيوب المقابري: حدثني شيخ لبقية بـ (باب الشام) - يقال له: سعيد ابن حميد - عن قريبة بنت ‌منيعة عن أمها:أنها جاءت إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقالت: يا رسول الله! النار النار. فقال: "ما نجواك! "، فأخبرته بأمرها وهي منتقبة. فقال: … فذكره.قلت: وهذا متن منكر، وإسناد مظلم؛ قريبة هذه لم أجد أحداً ترجمهابل إن أمها (منيعة) لا تعرف إلا من طريقها، ولعله لذلك لم يوردها ابن عبد البر في "الاستيعاب في معرفة الأصحاب"، ولا الحافظ في "الإصابة".وإنما أوردها ابن الأثير في "أسد الغابة" (5/ 549-550) من رواية ابن منده - هذه - وأبي نعيم! وبمثل هذا الإسناد لا تثبت الصحبة، كما لا يخفى على أهل العلم.............."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311100990

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں