بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1444ھ 08 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

معمولی احتلام کے بعد بھی غسل لازم ہے اگرچہ نماز قضاء ہورہی ہو


سوال

میں جب صبح اٹھتا ہو تو تھوڑا سا احتلام ہوجاتا ہے جو بالکل نماز کا  ٹائم ہوتا ہے،اگر میں غسل کرتا ہوں تو نماز قضا ہوتی ہے،ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

احتلام  (سوتے ہوئے منی خارج ) ہونے کے بعد غسل  کرنا فرض ہوجاتا ہے،لہذا صورت مسئولہ میں پہلے غسل کرنافرض  ہے،غسل کےبعد  نماز کاوقت  باقی ہوتو نماز اداکرلی جائے،اوراگر مکمل نماز کاوقت  باقی نہ ہوتوممنوع وقت ختم ہونے کےبعدجب اشراق کاوقت شروع ہوجائے اس وقت   نماز قضاء کرلی جائے۔

علامہ کاسانی رحمہ اللہ فرماتے  ہیں  :

"(وأما) الغسل المفروض فثلاثة: الغسل من الجنابة، والحيض، والنفاس أما الجنابة فلقوله تعالى: {وإن كنتم جنبًا فاطهروا} [المائدة: 6]، أي: اغتسلوا، و قوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لاتقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون ولا جنبًا إلا عابري سبيل حتى تغتسلوا} [النساء: 43] .............(أما) الأول فالجنابة تثبت بأمور بعضها مجمع عليه، وبعضها مختلف فيه (أما) المجمع عليه فنوعان أحدهما خروج المني عن شهوة دفقا من غير إيلاج بأي سبب حصل الخروج كاللمس، والنظر، والاحتلام، حتى يجب الغسل بالإجماع لقوله - صلى الله عليه وسلم - «الماء من الماء» ، أي: الاغتسال من المني."

(بدائع الصنائع  ،كتاب الطھارۃ،1/ 35، 36، ط:دارالکتب العلمیة) 

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144312100331

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں