بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ذو الحجة 1445ھ 15 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ممنوع ایام میں روزے رکھنا


سوال

مجھے ٹھیک سے یاد نہیں تھا کہ  13ذی الحجہ کا روزہ رکھنا منع ہے،  ایامِ بیض کے روزے کی نیت کر کے روزہ رکھ لیا،  بعد میں پتا چلا،  اب کیا کرنا ہوگا،  کیا کوئی کفارہ دینا ہوگا؟

جواب

شرعی طور پر سال میں  پانچ دن روزے رکھنا ممنوع ہے: عیدالفطر (یکم شوال)، عیدالاضحیٰ کے تین دن اور اس کے بعد ایک دن یعنی 10 ذوالحجہ سے 13 ذو الحجہ تک۔ ان ایام میں روزہ رکھنا ممنوع ہے، لہذا ان ایام میں روزے کی نیت کرنا جائز نہیں ہے،اور اگر کوئی روزہ رکھ لے تو اسے توڑنا لازم ہے، ورنہ گناہ ہو گا، اور جو ایک روزہ آپ نے رکھ لیا اس  پر توبہ و استغفار کریں اور کوئی کفارہ لازم نہیں ۔

فتاوی عالمگیری میں ہے :

"ويكره صوم يوم العيدين، وأيام التشريق ... و لا قضاءَ عليه إن شرع فيها ثم أفطر، كذا في الكنز، هذا في ظاهر الرواية عن الثلاثة". (5/226)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201354

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں