بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ملک الموت کو کس وجہ سے ملک الموت منتخب کیا گیا، اور کیا ملک الموت کا نام عزرائیل علیہ السلا م ہے ؟ سے متعلق تحقیق


سوال

چاروں بڑے فرشتوں میں حضرت عزرائیل علیہ السلام کو ملک الموت کیسے چنا گیا؟ کافی جگہوں پر پڑھا ہے کہ جب اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو بنانے کے لیے  چاروں فرشتوں کو زمین پر مٹی لانے کے لیے  بھیجا تو تین فرشتے زمین کی چیخ وپکار سن کر واپس آگئے ، جب کہ حضرت عزرائیل علیہ السلام زمین کے چیخ وپکار کے بعد بھی مٹی لے آۓ ، اس لیے اللہ نے انہیں ملک الموت فرشتہ بنا دیا۔ کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

سوال میں مذکور  روایت کا بعض حصہ  ، بعض اسرائیلی روایات میں کچھ مختلف انداز میں نقل ہوا ہے ،علامہ  ابن کثیر رحمہ اللہ  (المتوفى: 774ھ)  ابو محمد اسماعیل بن عبد الرحمن السدّی  الکبیر (المتوفی : 128) کے حوالہ سے ایک طویل روایت کے ضمن میں نقل فرماتے ہیں : 

"وَقَالَ السُّدِّيُّ فِي تَفْسِيرِهِ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -وَعَنْ مُرّة، عن ابن مَسْعُودٍ، وَعَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا فَرَغَ اللَّهُ مِنْ خَلْقِ مَا أَحَبَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ... فَبَعَثَ اللَّهُ جِبْرِيلَ إِلَى الْأَرْضِ؛ لِيَأْتِيَهُ بِطِينٍ مِنْهَا، فَقَالَتِ الْأَرْضُ: إِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ أَنْ تَقْبض مِنِّي أَوْ تَشِينَنِي، فَرَجَعَ وَلَمْ يَأْخُذْ، وَقَالَ: رَبِّ مِنِّي عَاذَتْ بِكَ فأعذتُها، فَبَعَثَ مِيكَائِيلُ، فَعَاذَتْ مِنْهُ فَأَعَاذَهَا، فَرَجَعَ فَقَالَ كَمَا قَالَ جِبْرِيلُ، فَبَعَثَ مَلَك الْمَوْتِ فَعَاذَتْ مِنْهُ. فَقَالَ: وَأَنَا أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَرْجِعَ وَلَمْ أُنَفِّذْ أَمْرَهُ، فَأَخَذَ مِنْ وَجْهِ الْأَرْضِ، وخَلَطَ وَلَمْ يَأْخُذْ مِنْ مَكَانٍ وَاحِدٍ، وَأَخَذَ مِنْ تُرْبَةٍ حَمْرَاءَ وَبَيْضَاءَ وَسَوْدَاءَ، فَلِذَلِكَ خَرَجَ بَنُو آدَمَ مُخْتَلِفِينَ . 

"یعنی ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :سُدّی اپنی تفسیر میں سند کے ساتھ   نقل فرماتے ہیں کہ کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ اللہ رب العزت نے جبرئیل علیہ السلام کو زمین کی طرف بھیجا کہ وہ اس سے کچھ مٹی لے آئیں،  پس جب وہ گئے تو زمین نے کہا:  میں اللہ کی پناہ چاہتی  ہوں آپ سے کہ آپ مجھ سے کچھ لیں یا مجھ عیب دار کریں ، پس جبرئیل علیہ السلام لوٹ گئے، اور انہوں نے اس سے کچھ نہ لیا، اور کہا کہ اس نے مجھ سے آپ کے واسطے سے پناہ مانگی، پس میں نے اسے پناہ دی، پھر اللہ تعالي نے میکائیل علیہ السلام کو بھیجا ، تو زمین نے ان سے بھی پناہ مانگی، انہوں نے بھی اسے پناہ دی،  اور لوٹ گئے، اور ایسے ہی کہا جیسے کہ جبرئیل علیہ  السلام نے کہا، پھر اللہ تعالي نے ملک الموت کو بھیجا ، زمین نے اس سے بھی پناہ مانگی ، پس انہوں نے کہا کہ میں اللہ کی پناہ چاہتاہوں کہ میں واپس لوٹ جاؤں اور اس کے حکم کو نافذ نہ کروں، پس پھر انہوں نے زمین سے کچھ مٹی اٹھا لی،  اور اسے ملا دیا ، انہون نے مٹی کسی ایک جگہ سے نہ لی تھی، بلکہ مٹی کی مختلف قسموں ،سرخ ، سفید ،  سیاہ  سب سے لیا،  اسی وجہ سے اولاد آدم مختلف رنگوں کے ہیں ۔"

( تفسير ابن كثير، سور ة البقرة، آيت نمبر (34)، (1/ 228 و229 و230)، ط/ دار طيبة للنشر والتوزيع )

اس روایت پر  کلام کرتے ہوئے علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

"فَهَذَا الْإِسْنَادُ إِلَى هَؤُلَاءِ الصَّحَابَةِ مَشْهُورٌ فِي تَفْسِيرِ السُّدِّي، وَيَقَعُ فِيهِ إِسْرَائِيلِيَّاتُ كَثِيرَةٌ، فَلَعَلَّ بَعْضَهَا مُدْرَج لَيْسَ مِنْ كَلَامِ الصَّحَابَةِ، أَوْ أَنَّهُمْ أَخَذُوهُ مِنْ بَعْضِ الْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ."

"یعنی سُدّی کی ذکر کردہ یہ سند ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ان کی تفسیر میں مشہور ہے، لیکن اس  (تفسیر) میں بہت سی اسرائلیات بھی آ گئی ہیں، غالبا اس  (مذکورہ روایت ) میں بعض حصہ بعد کے لوگوں کا کلام ہے، صحابہ کا کلام نہیں، یا پھر نقل کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  نے  اسے بعض گزری ہوئی کتابوں سے لیا ہوگا۔"

( تفسير ابن كثير، سور ة البقرة، آيت نمبر (34)، (1/ 228 و229 و230)، ط/ دار طيبة للنشر والتوزيع )

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ  اسی روایت کو مختصرا نقل کرنے کے بعد   ’’البدایۃ والنهاية ‘‘ میں لکھتے ہیں : 

" ولبعض هذا السياق شاهد من الأحاديث وإن كان كثير منه متلقى من الإسرائيليات." 

"يعني اس سیاق کے بعض حصہ کے  شواہد احادیث میں ہیں، اگرچہ اکثر حصہ اس کا اسرائلیات سے لیا  گیا ہے۔"

( البداية، باب ما ورد في خلق آدم عليه السلام، ذكر الأحاديث الواردة في خلق آدم عليه الصلاة والسلام، (1/ 202)، ط/ دار هجر للطباعة والنشر والتوزيع )

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا اکثر حصہ ، علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق   اسرائيلي روايات ميں سے ہے ، اور اسرائیلی  روایات کا حکم یہ ہے کہ اگر ان میں کوئی ایسی بات ہو جس کی تصدیق ہمیں قرآن و حدیث سے ملتی ہو تو ہم ایسی روایات کی تصدیق کریں گے اور ان روایات کا بیان کرنا جائز بھی ہوگا، اور جن  روایات میں ایسی باتیں ہوں جس کی تصدیق تو ہمیں قرآن و حدیث میں نہ ملتی ہو، لیکن وہ قرآن و حدیث (یعنی شریعت) کے کسی مسلمہ اصول سے ٹکراتی بھی نہ ہوں تو ایسی روایات کا حکم یہ ہے کہ ہم نہ تو ان روایات کی تصدیق کریں گے اور نہ ہی تکذیب کریں گے، البتہ ان روایات کو بیان کرنے کی گنجائش ہے، اور جن روایات میں ایسی باتیں ہوں جو قرآن و حدیث کے مخالف ہوں تو  ہم ان کی تکذیب کریں گے، اور ایسی روایات کو بیان کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔ 

ملک الموت  کو کس وجہ سے ملک الموت منتخب کیا گیا:

مذکورہ روایت(جو کئی کتب تفاسیر وغیرہ میں  موجود ہے  ) میں اس  بات کی کوئی  صراحت نہیں ہے کہ ملک الموت کو زمین کے پناہ مانگنے کے باوجود حکم باری تعالي کو پورا فرمانے پرخدا تعالي نے  موت  کے فرشتہ کے طور پر مقرر فرمایا، البتہ اسی مذکور ہ روایت کو سبط ابن الجوزي رحمہ اللہ (المتوفی: 654 ھ)  نے جب اپنی کتاب ’’ مرآة الزمان في تواريخ الأعيان‘‘ میں نقل فرمایا تو اس کے آخر میں  ایک جملہ اضافی نقل فرمایا ہے،جس سے مذکورہ      قول کہ’’ ملک الموت کو زمین کے پناہ مانگنے کے باوجود حکم باری تعالي کو پورا فرمانے پرخدا تعالي نے  موت  کے فرشتہ کے طور پر مقرر فرمایا‘‘ کی جانب اشارہ ملتا ہے،  سبط ابن الجوزی رحمہ اللہ کاوہ اضافی جملہ   ملاحظہ فرمائیں: 

"فلما جاء ملك الموت بالطِّين إلى بين يدي ربِّ العالمين، وأخبره بما قالت، وبما قال لها، قال الله تعالى: وعزَّتي، لأسلطنَّك عليها إذْ أطعتني وخالفتها. "

"یعنی جب ملک الموت مٹی لےکر رب کے حضور پیش ہوئے ، اور رب تعالي کو خبر دی جو کہ زمین نے انہیں کہا، اور پھر جو انہوں نے جواب دیا، پس اللہ تعالي نے فرمایا : قسم ہے میری عزت کی ، میں تمہیں اس پر مسلط  کروں گا اس وجہ سے کہ تو نے میری اطاعت کی اور اس کی مخالفت کی ۔"

(مرآة الزمان في تواريخ الأعيان، ذکر قصۃ آدم عليه السلام،  فصل في خلق آدم، (1/ 238)، ط/ دار الرسالة العالمية، دمشق - سوريا)

چونکہ مذکورہ روایت میں سبط ابن الجوزی رحمہ اللہ کا ذکر کردہ اضافی جملہ  دوسری کسی جگہ پر نقل نہیں ہوا ، لہذا فقط ان کے نقل کرنے کی بنیاد پرمذکورہ جملہ کو  ملک الموت کے موت کا فرشتہ مقرر ہونے کی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 

کیا ملک الموت کا نام عزرائیل علیہ السلا م ہے؟ 

یہ بھی  جانناچاہیےکہ ملک الموت كا نام ہی عزرائیل علیہ السلام   ہونے  کی تصریح قرآن کریم وصحیح احادیث میں تو کہیں نہیں ملتی، البتہ بعض آثار (اقوال تابعين وتبع تابعين وغيره)میں اس کی تصریح ملتی ہے ،  جیسے کہ اشعث بن اسلم عجلی بصری ربعی رحمہ اللہ سےأبو الشیخ اصبہانی رحمہ اللہ (المتوفى: 369ھ)  ایک طویل اثر کے شروع میں نقل فرماتے ہیں : 

" عَنْ أَشْعَثَ، قَالَ: سَأَلَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا مَلَكَ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاسْمُهُ: عِزْرَائِيلُ... . "

"یعنی اشعث رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے  مَلکُ الموت سے سوال کیا اوران (ملک الموت )کا نام عزرائیل ہے۔"

( العظمة لأبي الشيخ، صفة ملك الموت عليه السلام وعظم خلقه وقوته، (3/   908 و909) برقم(443)، ط/ دار العاصمة - الرياض ) 

اسی بات کو علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ (المتوفى: 774ھ) نے صراحت کے ساتھ نقل فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں : 

"وَأَمَّا مَلَكُ الْمَوْتِ فَلَيْسَ بِمُصَرَّحٍ بِاسْمِهِ فِي الْقُرْآنِ، وَلَا فِي الْأَحَادِيثِ الصِّحَاحِ، وَقَدْ جَاءَ تَسْمِيَتُهُ فِي بَعْضِ الْآثَارِ بِعِزْرَائِيلَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ."

"يعني ملك الموت كے نام کی صراحت قرآن اور صحیح احادیث میں نہیں ہے، البتہ ان(ملک الموت) کا نام بعض آثار میں عزرائیل کے نام سے آیا ہے ۔"

( البداية والنهاية، باب ذكر خلق الملائكة وصفاتهم عليهم السلام، صفات الملائكة (1/ 106)، ط/ دار هجر للطباعة والنشر والتوزيع  1418هـ ) 

 اور علامه آلوسي رحمه الله (المتوفى: 1270ھ) نے جمہور اہل علم کی رائے کے مطابق ملک الموت ، عزرائیل علیہ السلام ہی کو قرار دیا ہے،  وہ فرماتے ہیں : 

"والذي ذهب إليه الجمهور أن ملك الموت لمن يعقل وما لا يعقل من الحيوان واحد، وهو عزرائيل، ومعناه: عبد الله فيما قيل." 

"یعنی جمہور اہل علم کی رائےیہ ہے کہ موت کا فرشتہ،  حیوانوں میں سے عقل مندوں اور غیر عقلمندوں کے لیے ایک ہی ہے، اور وہ ہیں عزرائیل علیہ السلام ، اور اس کا معني ہے : اللہ کا بندہ ۔"

( روح المعاني، سورة السجدة، (11/ 124)، ط/ دار الكتب العلمية - بيروت 1415 هـ )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504101680

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں