بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جُمادى الأولى 1445ھ 10 دسمبر 2023 ء

دارالافتاء

 

مالک زمین کا کرایہ دار سے شرکت کرنا


سوال

منسلکہ فتوی کے روسے  شرکت صحیح  نہیں ہے ، لیکن اب ہم کاروبار اور اچھا خاصہ سرمایہ خرچ کرچکے ہیں ، تقریبا 70 لاکھ روپے لگا چکے ہیں ، اب ہمیں کوئی صورت بتائی جائے  ، مثلا دونوں پارٹی سرمایہ لگائیں یاکوئی اورصورت ہوتو وہ بھی بتائیں ، نیز  HPFایک فاونڈویشن  ہے، جو 8  دس افراد کے نام سےnominateہے ،کاروبار کی صورت یہ ہے کہ NDM کلینک ہے ،وہ جس زمین پر واقع ہے وہ کسی فرد کی ذاتی ملکیت ہے ، بقائی ہسپتال  والے اپنے ڈاکٹرز وہاں OPDکے لیے بھیجتے  ہیں ، HPFوالے اپنی زکوۃ اورعطیات سے ان مستحق مریضوں کی مدد کرتے ہیں ۔ اس کے بعد NDMجو نفع کمائے اس میں HPF، بقائی  ہسپتال والے اور زمین مالکان  شریک ہوں گے ، کیاشرکت کی یہ  صورت درست ہے ؟

جواب

صورت ِمسئولہ میںNDMکلینک کا HPF،بقائی ہسپتال اور زمین  مالکان کے ساتھ  شرکت کامذکورہ  معاملہ کرناشرعًا  درست نہیں ہے ،بلکہ زمین مالکان NDMکےساتھ ایک مخصوص رقم پر کرایہ داری کا معاملہ کریں  ،آمدنی میں سے مخصوص فی صدکو کرایہ  مقرر کرنا درست نہیں ،بقائی ہسپتال والوں کے لیے نفع میں سے مقرر کردہ حصہ  لینا درست نہیں ، بلکہ وہ اپنے ڈاکٹر وں کی OPDکے  بدلے میں ایک مخصوص مقدار میں اجرت  طے کرسکتے ہیں ، فی صد کے اعتبار سے نفع  طے کرنا درست نہیں ،تاہم اگر وہ   NDMکے ساتھ اس کلینک  میں سرمایہ  لگائیں  تو ان کے لیے نفع میں سے فی صد کے اعتبار سے  نفع لینا جائز ہوگا۔HPFکے لیے زکوۃ پر عطیات  کی مد میں مدد کرنے کے عوض نفع لینا درست نہیں ، نیز ان کے لیے NDMمیں سرمایہ  کا ری بھی جائز نہیں ، کیوں کہ ان کے پاس موجود مال /رقم زکوۃ اور عطیات  کی مد میں  حاصل ہونے والی رقم ہے اور اس سے سرمایہ کاری جائز نہیں ۔

مسبوط سرخسی میں ہے:

(وأما شركة العنان) فهو أن يشترك الرجلان برأس مال يحضره كل واحد منهما، ولا بد من ذلك، إما عند العقد، أو عند الشراء حتى أن الشركة لا تجوز برأس مال غائب، أو دين. ولا يشترط لجواز هذه الشركة خلط المالين " عندنا "

(کتاب الشرکۃ 11/152ط: دار المعرفة)

بدائع الصنائع میں ہے:

(ومنها) : أن يكون رأس مال الشركة عينا حاضرا لا دينا، ولا مالا غائبا، فإن كان لا تجوز عنانا، كانت أو مفاوضة؛ لأن المقصود من الشركة الربح وذلك بواسطة التصرف، ولا يمكن في الدين ولا المال الغائب، فلا يحصل المقصود وإنما يشترط الحضور عند الشراء لا عند العقد

(فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة6/60ط:سعید)

الدرالمختار میں ہے:

وشرعا (تملیک نفع)  مقصود من العین (بعوض )

(کتاب الاجارۃ  ص/4/ج 6 ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144303100548

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں