بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ذو الحجة 1445ھ 15 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ملک سے باہر موجود شخص کا طلاق سے رجوع


سوال

اگرشوہر باہر کے ملک میں ہواور وہ فون پر طلاق دے، پھر وہ دوبارہ رجوع کرنا چاہے، لیکن دوسرے ملک سے نہ آ سکتا ہو ،  تو کیا صورت ہوگی؟

جواب

آپ کے سوال میں دو چیزیں وضاحت طلب ہیں: 

 1) طلاق دیتے ہوئے کیا الفاظ کہے ہیں؟ 2) اور طلاق دیے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے؟

ان امور کی وضاحت کے بعد ہی تسلی بخش جواب دیاجاسکتا ہے، تاہم اصولی جواب یہ ہے کہ رجوع صحیح ہونے کے لیے میاں بیوی کا باہم ملنا اور صحبت کرنا شرط نہیں ہے، اگر طلاق رجعی  ہو تو ملے بغیر زبانی رجوع کرنے سے بھی رجوع صحیح ہوجاتا ہے،اور شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق ہوتا ہے، زبانی رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر زبان سے کہہ دے کہ میں نے رجوع کیا اور  اس پر گواہ بنالےاور بیوی کو اس کی اطلاع دے دے؛ لہذاشوہر اگر ملک سے باہر ہے تو   عدت پوری ہونے سے پہلے پہلے وہیں دو مسلمانوں کو گواہ بنا لے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا، اور بیوی کو بھی اس کی اطلاع دے دے؛ رجوع کے بعد شوہر کے لیے صرف بقیہ (ایک یا دو) طلاقوں کا اختیار رہ جائے گا۔

البتہ اگر شوہر نے طلاقِ مغلظہ یعنی تین طلاقیں (اکٹھی  یا الگ الگ) دے دی ہوں،  تو مطلّقہ  اس پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ اس پر حرام ہو جائے گی، اور رجوع یا دوبارہ نکاح کی گنجائش نہیں رہے گی، عورت عدّت گزار نے کے بعد کسی اور جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

 فتاوى هنديہ میں ہے:

" الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة."

(كتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة،1/ 468، ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

''(وندب إعلامها بها) لئلا تنكح غيره بعد العدة، فإن نكحت فرق بينهما وإن دخل، شمني. (و ندب الإشهاد) بعدلين ولو بعد الرجعة بالفعل (و) ندب (عدم دخوله بلا إذنها عليها) لتتأهب وإن قصد رجعتها لكراهتها بالفعل، كما مر. (ادعاها بعد العدة فيها) بأن قال: كنت راجعتك في عدتك (فصدقته صح) بالمصادقة (وإلا لا) يصح إجماعاً (و) كذا (لو أقام بينة بعد العدة أنه قال في عدتها: قد راجعتها، أو) أنه (قال: قد جامعتها) وتقدم قبولها على نفس اللمس والتقبيل فليحفظ (كان رجعةً)؛ لأن الثابت بالبينة كالثابت بالمعاينة، وهذا من أعجب المسائل حيث لا يثبت إقراره بإقراره بل بالبينة (كما لو قال فيها: كنت راجعتك أمس) فإنها تصح (وإن كذبته) لملكه الإنشاء في الحال''.

(كتاب الطلاق، باب الرجعة، 401/3، ط: سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا."

(کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:1، ص:473، ط: دار الفکر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503100047

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں