بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ذو الحجة 1443ھ 07 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

جب معاہدہ ڈالر میں ہوا ہے تو وہی ڈالر یا اس کی موجودہ قیمت ادا کرے گا


سوال

جناب عرض یہ ہے کہ میں ایک ٹرانسپورٹر اور کسٹم کلیئرنگ  ایجنٹ ہوں لوگوں/تاجروں کا مال ٹرانسپورٹ اور کسٹم کلیئرنس کرواتاہوں۔میرے ایک گاہک سے اس کا مال باہر سےٹرانسپورٹ کرکے اور کراچی کسٹم سے کلیئرکروانے کی بات پچیس ہزار ڈالر میں طے ہوئی تھی اور یہ بھی  طے ہواتھا کہ اگر انہیں مال نہیں ملے گا  تو ہم ان کا تاوان یعنی قیمت خرید آپ کو دیں گے اور مال ہم رکھیں گے ۔ہمارے چارجزاس لیے ڈالر میں طے ہوئے تھے کہ شپنگ اور کسٹم کے چارجز سارے ڈالرز کے ایکسچینج ریٹ سے ادا کرنے پڑتے ہیں۔کسٹم اور عدالتی خرچہ میرے ذمہ تھے اور  میں نے یہ مال خرید بھی لیا ہے ۔

جب یہ درج بالا مال کراچی کسٹم پہنچا یہاں مشکل کا سامنا کرنا پڑا اور ہم نے عدالت میں کیس دائرکیا  ،تین سال بعد کیس جیت گیا جب ہم نے گاہک سےکیس کے اضافی چارجز کے لیے پیسوں کا مطالبہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میں اضافی پیسے نہیں دے سکتا ،بات چیت کے بعد یہ طے ہوا کہ ہم ان کو تاوان یعنی مال کی قیمت خرید اداکریں گے اور مال ہم لیں گے ،اس تاوان کی رقم ڈالر کے حساب سے پچپن ہزار ڈالر بنتی ہے اور گاہک ہم سے آج ڈالر کے ریٹ کے حساب سے تاوان طلب کررہا ہے ،جب کہ میرے حساب سے جس وقت  یا جس تاریخ اس نے ڈالر خریدا ہے اور (باہر ملک) ٹی ٹی کیا ہے اس بھاؤ کے مطابق پیسے لینے کا حق بنتاہے۔

لہذا درج بالا  سلسلے میں آپ جناب سے مؤدبانہ  درخواست ہے کہ اس درج بالا مسئلے پر غور فرما کر مجھے شرعی طور پر راہنمائی  فرمائیں۔

وضاحت: تاوان سے مراد یہ ہےکہ اگر ہم آپ کا مال کلیئر نہیں کرواسکے یا کچھ مسئلہ ہوگیا تو اس صورت میں جتنے کا مال آپ نے خریدا ہوگا اتنی رقم ہم آپ کو ادا کریں گے ،اب مسئلہ یہ ہوا کہ معاہدے کے مطابق مالک نے کہا کہ آپ مجھے مال کی قیمت ادا کرو،اب اختلاف یہ ہےکہ مالک آج کے حساب سےڈالر کی قیمت کے مطابق رقم کامطالبہ کررہا ہے نہ کہ ڈالر کے اس ریٹ کے مطابق جس پر اس نے  مال خریدا تھا۔

جواب

صورت مسئولہ میں  سائل مال کلئیر کرانے کی وجہ سے اپنی اجرت (پچیس ہزار ڈالر )کا مستحق ہے ،مال تاخیر سے کلئیر ہونے کی وجہ سے سائل کی اجرت میں کٹوتی کا حق نہیں رکھتا ،تاہم  جب سائل نے اس مال کو حسب معاہدہ پچپن ہزار ڈالر میں خرید لیا اور قیمت خرید پچیس ہزار ڈالر تھی  تواس صورت سائل پر پچپن ہزار ڈالر یا اس کی موجودہ قیمت ادا کرنا ضروری ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والفرق أن الإبراء يسقط به الدين أصلا كما قدمه، وبالاستيفاء لا يسقط، لما تقرر أن ‌الديون ‌تقضى بأمثالها لا أنفسها لأن الدين وصف في الذمة لا يمكن أداؤه"

(کتاب الرہن فصل فی مسائل متفرقۃ6/ 525 ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(قوله ساعة فساعة) ؛ لأن المنفعة عرض لا تبقى زمانين، فإذا كان حدوثه كذلك فيملك بدله كذلك قصدا للتعادل، لكن ليس له المطالبة إلا بمضي منفعة مقصودة كاليوم في الدار والأرض والمرحلة في الدابة كما سيأتي"

(کتاب الاجارۃ،ج:6،ص:5،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144304100277

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں