بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مال حرام کا مصرف کیا ہے؟


سوال

میں نے بینک اکاؤنٹ حرام کے پیسوں سے کھلوایا تھا اور بعد میں اس میں زیادہ پیسےحلال کے جمع کرتا رہا اور تھوڑے پیسے حرام کے بھی اس جمع کر تا رہا اور ان پیسوں سے اپنے اوپر خرچ بھی کرتا رہا۔اب اس کا کیا حکم ہے حلال اور حرام کے پیسوں کو علیحدہ کرنے کا؟ اگر میں حرام کے پیسے اس سے نکال لوں تو باقی جو پیسے اکاؤنٹ میں بچیں گے وہ حلال ہو جائیں گے؟ اور پھر حرام کے پیسوں سے اکاؤنٹ کھلوانے کی وجہ سے حلال کے پیسےجو اس اکاؤنٹ میں باقی رہیں گےتو کیا وہ بھی حرام ہو جائیں گے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ آپ نے اکاؤنٹ  بناتے وقت یا بعد میں جتنی رقم حرام مال سے جمع کرائی  اتنی رقم حرام ہوگی، اسی طرح اگر سیونگ اکاؤنٹ  کھلوایا ہے تو اس پر ملنے والی سودی رقم بھی حرام ہوگی، اس کا حساب کرلیجیے، اس کے علاوہ جو رقم حلال مال سے جمع کروائی وہ حلال ہوگی، اور اکاؤنٹ میں جمع کرنے کی وجہ سے حلال رقم حرام نہیں ہوگی، البتہ اگر سیونگ اکاؤنٹ کھلوایا ہے تو اسے فورًا کرنٹ اکاؤنٹ میں تبدیل یا بالکل بند کروادیجیے۔ اور حرام رقم کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ رقم کسی سے بلامعاوضہ لی ہو، جیسے سودی رقم تو اسے مالک کو لوٹانا شرعاً ضروری ہے، نیز بینک وغیرہ سے سودی رقم وصول کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر وصول کرلی ہو  تو اس گناہ سے اپنے آپ کو پاک کرنے کے لیے مستحق زکاۃ شخص کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا واجب ہوگا۔

صورت مسئولہ میں جب کہ آپ وہ حرام رقم خود بھی استعمال کرتے رہے ہیں تو آپ کو حرام رقم جمع کرنے اور اس کو استعمال کرنے پر توبہ اور استغفار کرنا چاہیے اور آئندہ کے  لیے اس اکاؤنٹ میں سے حرام رقم تمام کی تمام مذکورہ طریقے سے غریبوں کو دے دینی چاہیے ۔نیز وہ حرام رقم جو اب تک استعمال کر چکے ہیں اس کا بدل بھی غریبوں کو اسی طرح سے ادا کرنا واجب ہے۔

''والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام فلا يحل له، وتصدق به بنية صاحبه''.

(مطلب فيمن ورث مالاً حراماً، ٥/ ٥٥،ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200213

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں