بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مکروہ اوقات میں تلاوت قرآن کا حکم


سوال

مکروہ وقت میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا یا تلاوت شروع کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مکروہ اوقات میں قرآن کریم  کی تلاوت کرنا جائز ہے ، البتہ ان اوقات میں  درود شریف اور تسبیح وغیرہ کا اہتمام کرنا بہتر ہے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحۃ الخالق وتكملۃ الطوری میں ہے:

"وفي البغية الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم في الأوقات التي تكره فيها الصلاة والدعاء والتسبيح أفضل من قراءة القرآن. اهـ. ولعله؛ ‌لأن ‌القراءة ‌ركن ‌الصلاة ‌وهي ‌مكروهة فالأولى ترك ما كان ركنا لها\"

(كتاب الصلاة،الأوقات المنهي عن الصلاة فيها،264/1،دار الكتاب الإسلامي)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح میں ہے:

"قالوا: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والدعاء والتسبيح في الأوقات المكروهة أفضل من قراءة القرآن ولعله ‌لأن ‌القراءة ‌ركن ‌الصلاة ‌وهي ‌مكروهة فالأولى ترك ما كان ركنا لها بحر قوله: \"مع الكراهة\" أي التحريمية لما عرف من أن النهي الظني الثبوت الغير

(کتاب الصلوۃ، فصل في الأوقات المكروهة،186، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503102836

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں