بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

غروبِ آفتاب کے کتنے منٹ بعد نمازِ مغرب ادا کرنا مکروہ ہوتا ہے؟


سوال

غروبِ آفتاب کے کتنے منٹ بعد نماز ِ مغرب ادا کرنا مکروہ ہوتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سورج غروب ہونے کا یقین ہوجانے  اور مغرب  کی  اذان ہوجانے کے بعد مغرب کی نماز  جلدی پڑھ لینی چاہیے، مغرب کی نماز میں  تاخیرمطلقاً مکروہ ہے، اذان  کے بعد جتنی دیر میں مؤذن اذان خانہ سے  مصلی تک آئے اتنی دیر کے بعد نماز  پڑھ لینی چاہیے، اذان کے بعد دو رکعت کی مقدار تاخیر کرنا مکروہِ تنزیہی اور ستاروں کے ظاہر ہونے تک تاخیر کرنامکروہِ تحریمی ہے۔  اس کے اعتبار سے منٹوں کا اندازا  لگایا جاسکتا ہے۔

''(وأول وقت المغرب إذا غربت الشمس وآخر وقتها مالم یغیب الشفق) وقال ابن الهمام رحمه الله: ولذا قلنا: إن تاخیر المغرب مطلقاً مکروه."

(الهدایة مع فتح القدیر ص۱۹۵ جلد۱ باب المواقیت)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200752

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں