بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

مکروہ اوقات میں قربانی کرنا


سوال

مکروہ اوقات میں قربانی کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

مکروہ اوقات  میں فرائض، نوافل، نمازہ جنازہ، سجدہ تلاوت ممنوع ہے، ان کے علاوہ دیگر عبادات، تلاوت قرآن مجید، طواف، قربانی ممنوع نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں مکروہ اوقات قربانی کرنا جائز ہوگا۔

مشكاة المصابيحمیں ہے:

"و عن عقبة بن عامر قال: ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا أن نصلي فيهن أو نقبر فيهن موتانا: حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع وحين يقوم قائم الظهيرة حتى تميل الشمس وحين تضيف الشمس للغروب حتى تغرب. رواه مسلم."

( كتاب الصلاة، باب أوقات النهي، الفصل الأول، ١ / ٣٢٧، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"و المذهب عندنا أن هذه الأوقات الثلاثة يحرم فيها الفرائض و النوافل، و صلاة الجنازة، و سجدة التلاوة إلا إذا حضرت الجنازة أو تليت آية السجدة حينئذ، فإنهما لايكرهان لكن الأولى تأخيرهما إلى خروج الأوقات."

( كتاب الصلاة، باب أوقات النهي، ٢ / ٨٢١، ط: دار الفكر، بيروت - لبنان)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں