بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز کے ممنوع اوقات


سوال

نماز کے مکروہ اوقات کتنے ہیں ؟اور کون کون سے ؟

جواب

تین اوقات میں ہر قسم کی نماز ممنوع ہے خواہ فرض نماز ہو یا نفل، ادا نماز ہو یاقضا۔ ان تین اوقات میں پڑھی گئی نفل نماز کراہتِ تحریمی کے ساتھ اداہوجائے گی، اور فرض یا واجب نماز پڑھی تو اس کااعادہ لازم ہوگا(سوائے وقتی نمازِ عصر کے کہ اگر سورج غروب ہونے سے پہلے شروع کی اور اسی دوران سورج غروب ہوگیاتو کراہت کے ساتھ اداہوجائے گی اور اتنی تاخیر کرناگناہ ہے)۔

اوقات ممنوعہ درج ذیل ہیں:

1۔عین طلوعِ شمس سے لے کر سورج ایک نیزہ بلند ہونے تک۔جس کی کم از کم مقدار دس منٹ ہے۔ البتہ احتیاطاً پندرہ تا بیس منٹ بعد اشراق پڑھے۔

 2۔نصف  النہاریعنی استوائے شمس کے وقت ۔ جب سورج دوپہر کے وقت بالکل سر پر آجائے، یہ بہت ہی مختصر وقت ہے، تاہم  فقہاءِ کرام فرماتے ہیں کہ احتیاطاً اس سے پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد نماز نہ پڑھی جائے۔

 3۔ عصر کے بعد سورج زرد پڑجانے کے بعد سے لے کر سورج غروب ہوجانے تک۔ (سوائے اس دن کی عصر کی نماز)

مذکورہ اوقات کے علاوہ دو اوقات مزید ایسے ہیں جن میں نفل نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے:

(1) صبح  صادق سے طلوع آفتاب (یعنی نمازِ فجر کا وقت شروع ہونے سے لے کر اشراق کا وقت ہونے تک)

(2) عصر کی نماز ادا کرنے کے  بعد سے غروب تک۔ ان اوقات میں بھی نفل نماز پڑھنامکروہِ تحریمی ہے جب کہ فرائض کی قضا پڑھ سکتے ہیں۔(عمدۃ الفقہ،ص؛57،ط:زوار اکیڈمی)

فتاوی شامی میں ہے:

"( وكره ) تحريماً...( صلاة ) مطلقاً ( ولو ) قضاء أو واجبة أو نفلا أو ( على جنازة وسجدة تلاوة وسهو ) ( مع شروق ) ( واستواء ) ( وغروب ، إلا عصر يومه ) فلا يكره فعله لأدائه كما وجب."

(کتاب الصلاۃ ج:1،ص:370، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ثلاث ساعات لاتجوز فيها المكتوبة و لا صلاة الجنازة و لا سجدة التلاوة إذا طلعت الشمس حتى ترتفع و عند الانتصاف إلى أن تزول و عند احمرارها إلى أن يغيب إلا عصر يومه ذلك فإنه يجوز أداؤه عند الغروب، هكذا في فتاوى قاضي خان. قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل: ما دام الإنسان يقدر على النظر إلى قرص الشمس فهي في الطلوع،كذا في الخلاصة. هذا إذا وجبت صلاة الجنازة و سجدة التلاوة في وقت مباح و أخرتا إلى هذا الوقت؛ فإنه لايجوز قطعًا، أما لو وجبتا في هذا الوقت و أديتا فيه جاز؛ لأنها أديت ناقصة كما وجبت، كذا في السراج الوهاج و هكذا في الكافي و التبيين. لكن الأفضل في سجدة التلاوة تأخيرها و في صلاة الجنازة التأخير مكروه، هكذا في التبيين. و لايجوز فيها قضاء الفرائض و الواجبات الفائتة عن أوقاتها كالوتر، هكذا في المستصفى والكافي."

(کتاب الصلوۃ، الفصل الثالث في بيان الأوقات التي لا تجوز فيها الصلاة وتكره فيها، ج:1، ص:52، ط:مکتبہ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407100481

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں