بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مکہ کے چاند سے اہل مدینہ روزہ نہیں رکھ سکتے، روایت کی تحقیق


سوال

حضرت کریب رضی اللہ عنہ  کی حدیث کے علاوہ اس مفہوم کی کوئی حدیث ہے کہ ایک صحابی،  مکہ سے مدینہ پہنچے اور  سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی  بارگاہ  میں  عرض کیا کہ  میں  نے  مکہ  میں  چاند  دیکھا  ہے،  سرکار  علیہ  السلام  نے  فرمایا کہ  تم نے چاند  دیکھا ہے ، تم  روزہ  رکھو  میں  نے  نہیں  دیکھا  ہے  میں  نہیں  رکھوں گا!

جواب

حضرت كریب رحمہ اللہ تعالی   کی روایت کے علاوہ اس نوعیت كا  واقعہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم   کی سيرتِ   طیبہ اور  ذخیرۂ احادیث میں نہیں مل سکا، حضرت کریب رحمہ اللہ تعالی کی روایت درجِ ذیل  ہے:

 "عن كريب، أن أم الفضل بنت الحارث، بعثته إلى معاوية بالشام، قال: فقدمت الشام، فقضيت حاجتها، واستهل علي رمضان وأنا بالشام، فرأيت الهلال ليلة الجمعة، ثم قدمت المدينة في آخر الشهر، فسألني عبد الله بن عباس رضي الله عنهما، ثم ذكر الهلال فقال: متى رأيتم الهلال؟ فقلت: رأيناه ليلة الجمعة، فقال: أنت رأيته؟ فقلت: نعم، ورآه الناس، وصاموا وصام معاوية، فقال: " لكنا رأيناه ليلة السبت، فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين، أو نراه، فقلت: أو لا تكتفي برؤية معاوية وصيامه؟ فقال: لا، هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم".

کریب روایت کرتے  ہیں کہ ام الفضل بنت الحارث نے انہیں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کي خدمت میں شام بھیجا،فرماتے ہیں: جب میں شام پهنچ كر  اپنا کام کرچکا تو وہیں رمضان شروع ہوگيا، جمعہ کی شب میں نے چاند دیکھا، پھر مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ آیا، تب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانے مجھ سے سفر کے احوال دریافت فرماتے ہوئےچاند کا ذکر کیا، اور کہا کہ تم نے چاند  کب دیکھاتھا؟میں نے عرض کیا: جمعہ کی شب! فرمایا: آپ نے خود دیکھا تھا! میں نے عرض کیا: جی ہاں! (اسی طرح )اور لوگوں نے بھی دیکھا،  اور سب نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ روزہ رکھا، آپ نے فرمایا: لیکن ہم نے ہفتہ کی رات چاند دیکھا  ہے، ہم پورے تیس روزے رکھیں گے، میں نے عرض کیا !کیاحضرت معاویہ رضی اللہ تعالی کاچاند ديكھنااور روزہ رکھنا کافی نہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم فرمایا ہے۔

(صحيح مسلم، كتاب الصيام،باب بيان أن لكل بلد رؤتهم وأنهم إذا رأوا الهلال ببلد لا يثبت حكمه لما بعد عنهم، الرقم: 1087، 2: 765، دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم  


فتوی نمبر : 144112200390

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں