بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1441ھ- 07 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

مخصوص نسبت کے ساتھ کسی متعین دن میں روزہ رکھنے کا حکم


سوال

میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ ہم مخصوص دنوں مثلاً شہادتِ عثمان غنی رضی اللہ عنہ، شہادت عمرفاروق رضی اللہ عنہ یا شہادتِ علی رضی اللہ عنہ کے دن روزہ رکھ سکتے ہیں؟

جواب

کسی بھی کام کے عبادت ہونے کے لیے یہ ضابطہ ذہن میں رکھا جائے کہ وہ احکام اسی وقت، اسی کیفیت اورانہی شرائط کے ساتھ انجام دیا جائے جن کے ساتھ اس کا ثبوت شریعت مطہرہ میں ہو، اپنی طرف سے کسی خاص وقت میں، کسی خاص کیفیت یا خاص شرائط کے ساتھ کسی کام کی انجام دہی عبادت نہیں بلکہ بدعت ہوگی۔ اسی ضابطہ کے پیش نظرشرعاً جن مواقع پر روزہ رکھنے کی ترغیب یا اجازت ہے ان مواقع پر توروزہ رکھنا عبادت ہوگا، لیکن جن مواقع یا ایام میں قرون اولیٰ سے روزہ رکھنے کا ثبوت نہیں ہے، ان ایام میں اس دن کی اہمیت کے پیش اگرہم اپنی طرف سے روزہ کااہتمام شروع کردیں تو شرعاً یہ روزہ بجائے عبادت کے بدعت کے زمرہ میں آئیگا۔چنانچہ خلفائے راشدین یا کسی اورصحابی کی شہادت یا وفات کے دن روزہ رکھنے کا ثبوت قرون اولیٰ میں ہمیں نہیں ملتااس لیے اس دن مخصوص نسبت کے ساتھ روزہ رکھنے کی اجازت بھی نہیں، البتہ اگرکسی کا عام معمول ہو روزہ رکھنے کا اور اس دوران کوئی ایسا دن آجاتاہے تو وہ حسبِ معمول روزہ رکھ سکتا ہے، جس کا تعلق اس دن کے ساتھ نہیں ہوگا بلکہ اس کے معمول کا حصہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200145

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے