بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شوال 1445ھ 24 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مخصوص ایام میں بال ڈائی کرنا


سوال

کیا خواتین اپنے مخصوص ایام، جن میں نماز روزے سے رخصت ہوتی ہے،بال ڈائی کرسکتی ہیں اس سے پاکی پر کوئی اثر تو نہیں ہوتا؟

جواب

 مخصوص ایام میں بھی    خالص کالے رنگ کے علاوہ  کوئی بھی رنگ بالوں پر لگانا جائز ہے، باقی جہاں تک کلر لگانے کے بعد غسل اور وضو کا مسئلہ ہے تو اگر  کلر ایسا ہے جس کی بالوں پر الگ سے کوئی تہہ نہیں جمتی، بلکہ وہ صرف بالوں کا رنگ تبدیل کرتا ہو تو  اس کے ہوتے ہوئے وضو اور غسل ہوجائے گا، پاکی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن اگر کوئی کلر ایسا ہو جس کی تہہ بالوں پر جم جاتی ہو جو کہ مشاہدہ سے معلوم ہو سکتا ہے تو ایسے کلر کے لگانے سے  وضو اور غسل نہیں ہو گا، اور  اس لیے ایسا کلر لگانے کی اجازت بھی  نہیں ہو گی۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن معاذة أن امرأة سألت عائشة قالت: تختضب الحائض؟ فقالت: قد كنا عند النبي - صلى الله عليه وسلم - ونحن نختضب، فلم يكن ينهانا عنه."

(باب الحائض تختضب، جلد۱، ص:۴۱۸، ط: دار الرسالۃ العالمیۃ)

ترجمہ: 

"حضرت  معاذہ بیان کرتی ہیں  ایک خاتون نےحضرت  عائشہ  رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا حیض والی عورت  خضاب لگا سکتی ہے؟  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جب ہم نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ ہوتی تھیں تو ہم خضاب لگا لیا کرتی تھیں  اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں اس سے منع نہیں کیا۔"

فتاوی شامی میں ہے:

''(ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه، به يفتى 

(قوله: به يفتى) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء والطين والدرن معللاً بالضرورة. قال في شرحها: ولأن الماء ينفذه لتخلله وعدم لزوجته وصلابته، والمعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء ووصوله إلى البدن.'' 

(جلد1،ص: 154، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102083

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں