بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مخمل کا کپڑا پہننا


سوال

مخمل کا کپڑا پہننا کیسا ہے؟

جواب

 مرد حضرات کے لیے  ریشم کے  کپڑے استعمال کرنے کی ممانعت ہے اور  ریشم کے علاوہ دیگر  پاک اشیاء سے  تیار   شدہ کپڑوں  کے  استعمال کرنے کی اجازت  ہے ، چوں کہ مخمل کے کپڑوں    میں  عمومًا ریشم  نہیں  ہوتا ؛ لہٰذا اس کا استعمال  مرد   کے  لیے جائز ہے۔جب کہ خواتین کے لیے ریشم کے کپڑوں  کا استعمال جائز ہے؛  لہٰذا مخمل سمیت مطلقًا ہر قسم کے کپڑے  پہننا جائز ہے  ۔

 فتاوی محمودیہ  میں ہے (321/19):

"سوال:۔ مخمل کا استعمال مرد کے لیے  درست ہے یانہیں؟ کیوں کہ وہ ریشم تو ہوتا نہیں، مثلاً  مخمل  کی ٹوپی عام طورپر استعمال کرتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً!

جو ریشم نہ ہواس کا استعمال مرد کے  لیے درست ہے۔"

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 130):

"(وأما) الذي ثبت حرمته في حق الرجال دون النساء فثلاثة أنواع منها لبس الحرير المصمت من الديباج والقز لما روي «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج وبإحدى يديه حرير وبالأخرى ذهب، فقال: هذان حرامان على ذكور أمتي حل لإناثها». وروي «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطى سيدنا عمر - رضي الله تعالى عنه - حلة فقال: يا رسول الله! كسوتني حلة وقد قلت في حلة عطارد إنما يلبسه من لا خلاق له في الآخرة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني لم أكسكها لتلبسها، وفي رواية: إنما أعطيتك لتكسو بعض نسائك» ...."

فقط  واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم 


فتوی نمبر : 144205201162

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں