بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1445ھ 14 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مکان کو لینٹر ڈالنے سے پہلے جانور ذبح کرنا ضروری نہیں


سوال

کیا مکان کو لنٹر ڈالنے کے بعد مؤنث جانور کا صدقہ کرناضروری ہے یا افضل ہے اور مذکر جانور غیر افضل؟

جواب

صدقہ کے ذریعے اللہ تعالٰی کا غضب دور ہوتا ہےاور بہت سی مصیبتیں دور ہوتی ہیں، لیکن صدقہ کرنے کے لیے بکرا یا بکری ذبح کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ  اس کو لازم اور ضروری سمجھا جائے، تو یہ جائز بھی نہیں ہے، البتہ اگر اس کو لازم سمجھے بغیر بکرا یا بکری ذبح کیا جائے، تو یہ جائز ہے، لیکن زندہ بکرا یا بکری صدقہ کی نیت سے   کسی کودینا زیادہ افضل ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مکان کا لنٹر ڈالنے کے بعد جانور ذبح کرنے کو ضروری سمجھنا جائز نہیں ہے، نیز  جہاں اس کا رواج ہو، وہاں ضروری سمجھے بغیر بھی اس کا اہتمام درست نہیں ہے۔

مشكاة المصابيح ميں ہے:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الصدقة لتطفئ ‌غضب ‌الرب وتدفع ميتة السوء» . رواه الترمذي."

(كتاب الزكاة، ج:5، ص:696، ط:المكتب الإسلامي)

کفایت المفتی میں ہے:

’’زندہ جانور صدقہ کردینابہتر ہے، شفائے مریض کی غرض سے ذبح کرنا اگر محض لوجہ اللہ(رضائے الہی کے لیے)ہوتومباح تو ہے ، لیکن اصل مقصد بالاراقۃ(خون بہانے سے )صدقہ ہوناچاہیے نہ کہ فدیہ جان بجان‘‘۔

(کفایت المفتی، ج:5، ص:252، ط؛دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407101025

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں