بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بچوں کی شادی اور مکان کی نیت سے رکھی رقم پر زکاۃ کا حکم


سوال

کیا ایک بے روزگار یا بیمار آدمی جس کی رقم میں اضافہ نہیں ہوتا، مگر وہ صاحب نصاب ہے اور اس نے رقم مکان اور بچوں کی شادی وغیرہ کی نیت سے رکھی ہوئی  ہے، وہ زکوٰۃ ادا کرنے کا پابند ہے؟

جواب

سونا، چاندی اور نقد رقم خواہ کسی بھی مقصد کے لیے رکھی ہوئی اگر وہ بنیادی ضرورت سے زائد اور نصاب کے بقدر یا اس سے زیادہ ہو تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوٰۃ لازم ہوتی ہے،  لہذا مذکورہ شخص نے جو رقم مکان اور بچوں کی شادی کی نیت سے رکھی ہوئی اس رقم پر جب سال مکمل ہوگا تو اس کی زکوٰۃ لازم ہوگی۔ واضح رہے کہ سونا، چاندی اور رقم چاہے دیکھنے میں  بڑھ نہ رہے ہوں، تب بھی حکماً یہ بڑھنے والے اموال ہیں، سونا چاندی تو خلقتاً ہی مالِ نامی ہیں اور رقم ان کے قائم مقام ہونے کی وجہ سے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 262):
"أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري".
 فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109202603

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں