بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

گهر كے افراد كا اجتماعی قربانی کرنے کا حکم


سوال

گھر میں بہن بھائی اکٹھے رہتے ہوں،وہ سب پیسے جمع کرکے والد کو دے دیں،تاکہ وہ سب کی طرف سے اجتماعی قربانی کرے،کیا شرعاًایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

باپ کے لیے اولاد کی طرف سے قربانی کرنا واجب نہیں ہے،مثلاًکسی کی اولاد میں دس افراد ہیں اور سب ایک ساتھ رہتے ہیں،باپ کی زندگی میں صرف باپ پر قربانی واجب ہوگی یعنی اپنے نام سے قربانی کرےگااولاد کےنام سے نہیں۔
اگر اولاد بالغ ہے او رسب مالدار صاحبِ نصاب ہیں تو اس صورت میں ہر ایک پر ضروری ہوگاکہ  مستقل قربانی کرے، خواہ بڑے جانور میں ایک حصہ لے کر کرے، اگر باپ اولاد کی طرف سے اولاد کی اجازت سے ان کی قربانی کرےگاتو ان کی قربانی بھی ادا ہوجاۓگی اور والد کو ثواب ملےگا،البتہ اگر باپ نہیں کرےگا تو ہر ایک پر لازم ہوگا کہ  وہ اپنی قربانی کرے، ورنہ سب گنہگار ہوں گے۔
 اگر اولاد نابالغ ہے تو ان پر قربانی واجب نہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں صاحبِ نصاب اولاد  کااپنے حصوں کے بقدرپیسےجمع کرکے والدکو اجتماعی قربانی کےلیے دینے سے سب کی قربانی ادا ہوجاۓگی،بشرط یہ کہ  ایک بڑے جانور میں سات سے زائد شریک نہ ہوں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(فتجب) التضحية: أي إراقة الدم من النعم عملا لا اعتقادا۔۔۔(على حر مسلم مقيم)۔۔۔(موسر) يسار الفطرة(عن نفسه لا عن طفله) على الظاهر، بخلاف الفطرة (شاة) بالرفع بدل من ضمير تجب أو فاعله (أو سبع بدنة) هي الإبل والبقر؛ سميت به لضخامتها، ولو لأحدهم أقل من سبع لم يجز عن أحد، وتجزي عما دون سبعة بالأولى (فجر) نصب على الظرفية (يوم النحر إلى آخر أيامه)."

(کتاب الاضحیہ،313/315/316/6،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511102618

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں