بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

مجلات کی خریداری میں تاحیات ممبری یا خریداری


سوال

از: ماہنامہ ندائے حرم جامعہ کنز العلوم احمداباد گجرات الہندکیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ماہنامہ و رسائل کا لائف ممبر بنانا یا بننا کیسا ہے ؟ایک متعین رقم ادا کر کے تاحیات رسالےکا خریدار بننا کیسا ہے؟کیا یہ معاملہ شرعا درست ہے؟اگر نہیں تو اس کی کوئی جائز شکل ہے؟حضرت مفتی عبد الرحیم صاحب لاجپوری رحمۃ اللہ علیہ نے فتاوی رحیمیہ میں دو شکلیں بیان کی ہے ایک معاوین خصوصی کی جس میں صرف تعاون مراد ہے اور ایک خریداری کی جس میں تاحیات رسالے کی خریداری مراد ہے ؟حضرت نے پہلی شکل کو جائز اور دوسری کو ناجائز لکھا ہے۔فتاوی محمودیہ میں حضرت مفتی محمود حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے لائف ممبری کو قمار کی شکل بتایا ہے۔

جواب

مجلات کی خریداری میں تاحیات ممبری یا خریداری مبیع کی عدمِ موجودگی اور وقت کی جھالت کی بناء پر ناجائز ھے، البتہ اگر اس کو بیع کے بجاے تعاون مراد لیا جائے اور اس کی صورت یہ ہو کہ رقم دینے والا دی جانے والی رقم کو عطیہ کی مد میں دے اور عطیہ ہی سمجھے اور ادارہ کی طرف سے رسائل ومجلات کا اجراء اعزازی ہو پھرتو جائز ھے، البتہ اس صورت میں ادارہ پر کوئی جوابدہی لازم نہ ہوگی۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143409200062

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں