بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

میرے مرنے کے بعد میری جائیداد کو وقف کردینا کہنے کا حکم


سوال

میری تیس سال سے ایک خواجہ سرا سے دعا سلام تھی ،اس کے گرو نے اپنی زندگی میں اپنی دو جائیدادیں اپنے چیلے کو مکمل قبضہ و تصرف کے ساتھ بطور گفٹ  دی تھیں ،جس کا نام   ...   تھا،اس کے بعد اس گرو  کا انتقال ہو گیا، مذکورہ خواجہ سرا نے اس زمین کے کاغذات میرے پاس رکھوائے اور ہر ملاقات پر یہ کہتا تھا کہ میں نے اپنے والدین کی پراپرٹی(جو اس کو اپنے والدین سے بطور حصہ  میراث ملی تھی ) اپنے بہن بھائیوں کو دے دی ہے۔

(وضاحت:اس نے اپنے بہن بھائیوں کو کہا تھا کہ میرا حصہ تم آپس میں بانٹ لو مجھے کچھ نہیں چاہیے ،اور  انہوں نے بانٹ لیا اور اس کو نہیں دیا ،اس کے علاوہ کوئی معاہدہ نہیں ہو اتھا )

اس لیے ان کا میری مذکورہ جائیدادوں میں کوئی حق نہیں ہے،اور نہ ہی میری کمیونٹی (خواجہ سراؤں )کا کوئی حق ہے،میں آپ کو وصیت کرتا ہوں کہ میرے انتقال کے بعد آپ میری دو جائیدادیں  مدرسہ یا مسجد کو دے دیں ،یہ میری آپ کو وصیت ہے ،اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو روزِ  محشر کو آپ کا گریبان پکڑوں گا۔

اب مذکورہ خواجہ سرا کا  گزشتہ کل انتقال ہو گیا ،مرحوم کے تمام ورثاء اور کمیونٹی (خواجہ سرا )،سب جمع ہیں  اور اس کی جائیداد کے متعلق استفسار کر رہے ہیں ،مرحوم نے اپنے علاقہ والوں کو بھی اس سے آگاہ کیا تھا کہ میرے جائیداد کے کاغذات میرے وکیل کے پاس بطور امانت ہیں اور وہ میری جائیداد کو میری وصیت کے مطابق مسجد اور مدرسہ کو دیں گے ،اس مسئلہ کا شرعی حل آپ بتائیں کہ میں کیا کروں ؟

جواب

1)صورتِ  مسئولہ میں  مذکورہ خواجہ سرا کا جملہ کہ "میں آپ کو وصیت کرتا ہوں کہ میرے انتقال کے بعد آپ میری دو جائیدادیں  مدرسہ یا مسجد کو دے دیں "وصیت ہے ،اور وصیت کا ضابطہ یہ ہے کہ کل مال کے ایک تہائی تک نافذ ہوتی ہے،اس سے زائد پر وصیت نافذ نہیں ہوتی ہے ،الا یہ کہ تمام ورثاء عاقل بالغ  وصیت کے مطابق عمل کرنے پر راضی ہوں ،لہذا  اگر مذکورہ دو جائیدادیں مرحوم کے کل مال کے ایک تہائی حصہ کے برابر یا  اس سے کم ہیں  تو دونوں جائیدادوں کو وصیت کے مطابق مسجد و مدرسہ کے لیے وقف کرنا  وصی (سائلہ) پر لازم ہے ،اور اگر  ایک تہائی سے زائد ہیں تو ایک تہائی کے بقدر وقف کرنا ضروری ہوگا اور بقیہ ورثاء میں تقسیم ہوگا۔

2)خواجہ سرا (کمیونٹی) چوں کہ مرحوم کے وارث نہیں ہیں ،اس لیے ان کا مرحوم کی جائیداد میں کوئی حق و حصہ نہیں ہے ،لہذا ان کا مطالبہ کرنا شرعًا درست نہیں ہے۔

3)مرحوم کا اپنے بہن بھائیوں کو یہ کہنا کہ" میرا حصہ تم آپس میں بانٹ لو ،مجھے کچھ نہیں چاہیے" ،اور  پھر ان کا آپس میں بانٹ لینا  اور مرحوم  خواجہ سرا کو  کچھ نہیں دینا اس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے ،بلکہ مرحوم کا حق   اپنے والدین کی جائیداد میں باقی رہا ہے  جو    اب اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء  میں شرعی اعتبار سے تقسیم ہو گا ۔

الدر المختار میں ہے:

"(هي تمليك مضاف إلى ما بعد الموت) عينا كان أو دينا. قلت: يعني بطريق التبرع ليخرج نحو الإقرار بالدين فإنه نافذ من كل المال كما سيجيء ولا ينافيه وجوبها لحقه تعالى فتأمله۔"

(رد المحتار ،کتاب الوصایا،ج:6ص:648،ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"امرأة وقفت منزلًا في مرضها ... و لا مال لها سوى المنزل جاز الوقف في الثلث و لم يجز في الثلثين، فيقسم الثلثان بين الورثة على قدر سهامهم."

(کتاب الوقف ،ج:4،ص:345،ط:سعید)

الدر المختار میں ہے:

"و يستحق الإرث برحم و نكاح و ولاء."

(رد المحتار،کتاب الفرائض،ج:6،ص:762،ط:سعید)

فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:

"و في المنتقى: عن أبي يوسف رحمه الله في رجل أوصى إلى رجل وله أولاد كبار وكلهم حضور وليس على الميت دين ولم يوص بوصية أنه يجوز بيع الوصي في كل شيئ ما خلا العقار ... و إذا لم يكن على الميت دين و لكن الميت أوصى بوصايا فإن كانت الوصية في الثلث أو فيما دون الثلث أنفذها و إن كانت أكثر من ذلك أنفذ بمقدار الثلث وما بقي فهو للورثة."

(كتاب الوصايا، الفصل الحادي والثلاثون في الإيصاء، ج:20،ص: 62، ط:زکريا)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وسئل أبو بكر الإسكاف - رحمه الله تعالى - عن امرأة أوصت أن يباع ضياعها ويصرف ثلث ثمنها على الفقراء ثم إنها ماتت وخلفت ورثة كبارا فأراد الوصي بيع جميع الضيعة وأبى الورثة إلا مقدار الوصية قال: إن كان الثلث يشترى بالوكس ويدخل على الورثة وعلى أهل الوصية الضرر فللوصي أن يبيع الكل وإلا فلا يبيع إلا بمقدار الوصية."

(کتاب الوصایا،الباب التاسع فی الوصی وما یملکہ،ج:6،ص:147،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144304100995

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں