بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

معراج کے موقع پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کا دیدار فرمایا تھا یا نہیں؟


سوال

محترم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر اپنے رب کا دیدار فرمایا تھا؟ کیوں کہ امی عائشہ رضی للہ عنہا تو فرماتی ہے کہ وہ جھوٹا ہے جو یہ کہے کہ نبی  پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے رب کو دیکھا، اصلاح فرما دیں۔

جواب

واضح رہے کہ اس بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور سے ہی اختلاف چلا آرہا ہے، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کی رائے یہ ہے کہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہے، ان کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے۔﴿لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ…﴾ کہ نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں، لیکن جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کی رائے اور راحج قول یہی ہے کہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جسمانی آنکھوں سے بھی اور دل کی آنکھوں سے بھی اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے، کیوں کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے رب کو دیکھا؟ تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ہاں!"رَأَیْتُ رَبِّيْ عَزَّ وَجَلَّ"۔ نیز طبرانی میں حضرت ابن عباس کا قول منقول ہے: "رَاٰهُ مَرَّتَیْنِ، مَـرَّةً بِقَلْبِه وَمَرَّةً بِبَصَرِهٖ"  کہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا دل سے بھی  اور آنکھ سے بھی، یہاں "مَرَّتَیْن" سے مراد دو مرتبہ دیکھنا نہیں ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دونوں طرح سے دیکھا، دل کی آنکھوں سے بھی اور سر کی آنکھوں سے بھی، علاوہ ازیں جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے  پوچھا گیا کہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو کیسے دیکھا؟ قرآن میں تو ہے﴿لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ نگاہیں اس کا حاطہ نہیں کرسکتیں؟ تو حضرت ابن عباس   رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "وَیْحَکَ ذَاکَ إذْا تَجَلّٰی بِنُوْرِ الَّذِيْ هو نُوْرُه"،تیرا بھلا ہو وہ تو اس طرح نگاہیں نہیں دیکھ سکتیں کہ اللہ تعالیٰ کا مکمل ادراک کریں، اس کا کامل احاطہ کریں۔

"عن عکرمة عن ابن عباس قال: راٰی محمد ربه، قلت: ألیس اللّٰه یقول: ﴿لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ﴾؟ قال: ویحک ذاک إذا تجلی بنوره الذي هو نوره وقد راٰی ربه مرتین". (ترمذی)

 عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہوتی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور پوچھا ہوتا، انہوں نے پوچھا: تم رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا بات پوچھتے؟ میں نے کہا:  میں پوچھتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟ تو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بات تومیں نے آپ   صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھی تھی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے (اپنی آنکھوں سے ) نور ( کے حجاب) کو دیکھا تھا۔

"عن عبداللّٰه بن شقیق قال: قلت لأبي ذر: لو رأیت رسول اللّٰه لسألته، فقال: عن أي شيءٍ کنت تسأله؟ قال: کنت أسأله هل رأیت ربك؟ قال أبو ذر: قد سألته، فقال: رأیت نوراً". (مسلم)

 معلوم ہوا کہ اس طرح دیکھنا کہ نگاہیں مکمل ادراک کریں جیسے جنت میں اللہ تعالیٰ نصیب کریں گے، ایسا دنیا میں کوئی نہیں دیکھ سکتا، ہاں فی الجملہ حق تعالیٰ شانہ کو دیکھنا ممکن ہے، اور یہی رؤیت سیدنا محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ معراج میں میسر ہوئی، یہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کی ایسی خصوصیت ہے جس میں آپ کا کوئی  شریک نہیں، لہذا اس صورت میں کوئی اختلاف نہیں رہ جاتا اور تمام روایات میں بھی تطبیق ہو جاتی ہے، کیوں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے مراد اللہ تعالیٰ کو کامل ادراک اور سارے علم کے ساتھ جان لینے کی نفی ہے کہ اللہ کے  رسول اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، ہاں کامل ادراک کے ساتھ نہیں دیکھا، اس لیے کہ اس طرح کا دیدار دنیا میں ممکن نہیں، یہ دیدار اللہ تعالیٰ جنت میں کروائیں گے۔ البتہ فی الجملہ دیکھنے میں کوئی اشکال نہیں، اس طرح کا دیدار اللہ کے  رسول اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے کروایا، جمہور صحابہ اور تابعین کا یہی مذہب ہے۔

نیز یہ کہ آیت کا تعلق دنیا سے ہے اور معراج کا واقعہ دنیا میں نہیں ہوا بلکہ عالم بالا میں ہوا ہے، اس کی کیفیت الگ ہے، لہذا دونوں عالَموں کو ایک نہیں سمجھنا چاہیے۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وأما صاحب التحرير، فإنه ‌اختار ‌إثبات ‌الرؤية فقال: الجمع في هذه المسألة وإن كانت كثيرة، لكنا لا نتمسك إلا بالأقوى... أما احتجاجها بقوله تعالى: {لا تدركه الأبصار} [الأنعام: 103] فجوابه أن الإدراك هو الإحاطة، والله تعالى لا يحاط به، فإذا ورد النص بنفي الإحاطة لا يلزم منه نفي الرؤية بغير إحاطة."

(كتاب صفة القيامة والجنة والنار، باب رؤية الله تعالى، ج: 9، ص: 3607،3606، ط: دار الفكر)

تفسیر خازن میں ہے:

"قال الشيخ محيي الدين: وأما صاحب التحرير فإنه ‌اختار ‌إثبات ‌الرؤية. قال: والحجج في المسألة وإن كانت كثيرة ولكن لا تتمسك إلا بالأقوى منها وهو حديث ابن عباس: «أتعجبون أن تكون الخلة لإبراهيم والكلام لموسى والرؤية لمحمد صلى الله عليه وسلم وعليهم أجمعين» وعن عكرمة قال: سئل ابن عباس هل رأى محمد صلى الله عليه وسلم ربه؟ قال: نعم. وقد روي بإسناد لا بأس به عن شعبة عن قتادة عن أنس قال: رأى محمد ربه عز وجل وكان الحسن يحلف لقد رأى محمد صلى الله عليه وسلم ربه عز وجل.

والأصل في المسألة حديث ابن عباس حبر هذه الأمة وعالمها والمرجوع إليه في المعضلات وقد راجعه ابن عمر في هذه المسألة وراسله هل رأى محمد صلى الله عليه وسلم ربه عز وجل فأخبره أنه رآه ولا يقدح في هذا حديث عائشة لأن عائشة لم تخبر أنها سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: لم أر ربي وإنما ذكرت ما ذكرت متأولة لقول الله تعالى وَما كانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْياً أَوْ مِنْ وَراءِ حِجابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا ولقوله لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ والصحابي إذا قال قولا وخالفه غيره منهم لم يكن قوله حجة وإذا قد صحت الروايات عن ابن عباس أنه تكلم في هذه المسألة بإثبات الرؤية وجب المصير إلى إثباتها لأنها ليست مما يدرك بالعقل ويؤخذ بالظن وإنما يتلقى بالسمع ولا يستجيز أحد أن يظن بابن عباس أنه تكلم في هذه المسألة بالظن والاجتهاد وقد قال معمر بن راشد حين ذكر اختلاف عائشة وابن عباس ما عائشة عندنا بأعلم من ابن عباس ثم إن ابن عباس أثبت ما نفاه غيره والمثبت مقدم على النفي هذا كلام صاحب التحرير في إثبات الرؤية.

قال الشيخ محيي الدين فالحاصل أن الراجح عند أكثر العلماء أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى ربه عز وجل بعيني رأسه ليلة الإسراء لحديث ابن عباس وغيره مما تقدم وإثبات هذا لا يأخذونه إلا بالسماع من رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا مما لا ينبغي أن يتشكك فيه ثم إن عائشة لم تنف الرؤية بحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولو كان معها حديث لذكرته وإنما اعتمدت على الاستنباط من الآيات وسنوضح الجواب عنها، فنقول: أما احتجاج عائشة رضي الله تعالى عنها بقوله تعالى:لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُفجوابه ظاهر، فإن الإدراك هو الإحاطة والله تعالى لا يحاط به وإذا ورد النص بنفي الإحاطة لا يلزم منه نفي الرؤية بغير إحاطة وهذا الجواب في نهاية الحسن مع اختصاره."

(‌‌سورة النجم، ج: 4، ص: 207، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507102008

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں