بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ماہواری کی عادت میں تبدیلی کی صورت میں نماز کا حکم


سوال

ہمارے خاندان میں ایک غیر شادی شدہ لڑکی ہے اس کے حیض کی عادت یہ تھی کہ ہر مہینے کی 14 تاریخ کو حیض شروع ہو جاتا تھا، اب اس مہینے (فروری) میں 14 کو حیض نہیں آیا،  اسی طرح 15، 16، 17 ،18، 19، 20 تاریخ کو بھی حیض نہیں آیا ، بلکہ غیر عادتی طور پر 21 تاریخ کو دوپہر کے وقت ایک یا دو قطرے خون آیا اور پھر اس کے بعد خون بند ہو گیا اب پوچھنا یہ ہے کہ: 

1۔ کیا یہ گزرے ہوئے ایام (14 سے 21 تک) حیض کے شمار ہوں گے یا نہیں؟  یا آئندہ  دنوں میں مزید خون آنے کا انتظار کر لے؟

2۔  21 تاریخ کو جب خون آیا تو اس نے نماز پڑھنا بند کردی،  تو تقریبا 4  نمازیں ( ظہر، عصر، مغرب، عشاء ) قضا ہو گئیں،  یعنی ان نمازوں کے اوقات گزر گئے ، یہاں تک کہ صبح تک خون نہیں آیا ، چونکہ اب خون آنا بند ہو گیا ہے، تو  کیا اب قضا شدہ نمازیں لوٹا ئے  یا انتظار کرے؟

3۔ اگر قضا نمازیں لوٹانی ہو ں تو  کیا غسل واجب ہے یا صرف وضو ہی کافی ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ دو ماہواریوں کے درمیان کم از کم پندرہ دن کی پاکی کے ایام کا ہونا ضروری ہوتا ہے، خواتین کی عادت طبعاً چونکہ تبدیل ہوتی رہتی ہے، لہذا اگر کوئی خاتون  ماہواری کی عادت کے ایام میں خون  نہ دیکھے، تو وہ ایام پاکی کے ہی شمار ہوتے ہیں، جس میں وہ تمام عبادات کی اہل ہوتی ہے، محض عادت کی تاریخوں کے آجانے کی وجہ سے ماہواری شروع ہونے کا حکم شرعا نہیں لگتا۔

1۔ لہذا صورت مسئولہ میں  14 فروری سے 20 فروری کے ایام پاکی کے شمار ہوں گے، اور اگر مذکورہ خاتون نے ان دنوں میں نمازیں ادا نہ کی ہوں، تو ان کی قضاء کرنا لازم ہوگا۔

2۔3۔   مذکورہ خاتون نے 21 تاریخ کو  جو خون دیکھا تھا، اگر دس دن مکمل ہونے سے پہلے پہلے خون آجائے، خواہ چند قطرے ہی کیوں نہ ہوں، تو یہ سارے ایام ماہواری کے شمار ہوں گے، اور مذکورہ خاتون کی عادت کی تبدیلی کا حکم لگے گا، لہذا مسئولہ صورت میں مذکورہ خاتون انتظار کرے،  پس اگر دس دن مکمل ہونے کے باوجود خون نہ دیکھے تو اس صورت میں 21 فروری سے لے کر بقیہ تمام ایام پاکی کے شمار ہوں گے۔

جہاں تک تعلق نماز کا ہے، تو چونکہ 21 تاریخ کو چند قطرے آنے کے بعد دوبارہ خون نہیں آیا لہذا  مذکورہ خاتون نماز جاری رکھے گی،  کیونکہ مذکوری صورتحال میں غالب یہی ہے  کہ 21 فروری کو آنے والا خون ماہواری کا نہ ہو، پس  اس صورت میں  مذکورہ خاتون پر غسل کرنا واجب نہ ہوگا۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

"ثم اعلم أن الطهر المتخلل بين الدمين إذا كان خمسة عشر يوما فأكثر يكون فاصلا بين الدمين في الحيض اتفاقا فما بلغ من كل من الدمين نصابا جعل حيضا، وأنه إذا كان أقل من ثلاثة أيام لا يكون فاصلا وإن كان أكثر من الدمين اتفاقا. واختلفوا فيما بين ذلك على ستة أقوال كلها رويت عن الإمام أشهرها ثلاثة:

الأولى - قول أبي يوسف: إن الطهر المتخلل بين الدمين لا يفصل، بل يكون كالدم المتوالي بشرط إحاطة الدم لطرفي الطهر المتخلل، فيجوز بداية الحيض بالطهر وختمه به أيضا، فلو رأت مبتدأة يوما دما وأربعة عشر طهرا ويوما دما فالعشرة الأولى حيض، ولو رأت المعتادة قبل عادتها يوما دما وعشرة طهرا ويوما دما فالعشرة التي لم تر فيها الدم حيض إن كانت عادتها وإلا ردت إلى أيام عادتها.

الثانية: أن الشرط إحاطة الدم لطرفي مدة الحيض، فلا يجوز بداية الحيض بالطهر ولا ختمه به؛ فلو رأت مبتدأة يوما دما وثمانية طهرا ويوما دما فالعشرة حيض؛ ولو رأت معتادة قبل عادتها يوما دما وتسعة طهرا ويوما دما لا يكون شيء منه حيضا، وكذا النفاس على هذا الاعتبار.

الثالثة: قول محمد إن الشرط أن يكون الطهر مثل الدمين أو أقل في مدة الحيض، فلو كان أكثر فصل، لكن ينظر إن كان في كل من الجانبين ما يمكن أن يجعل حيضا فالسابق حيض، ولو في أحدهما فهو الحيض والآخر استحاضة، وإلا فالكل استحاضة. ولا يجوز بدء الحيض بالطهر ولا ختمه به؛ فلو رأت مبتدأة يوما دما ويومين طهرا ويوما دما فالأربعة حيض؛ لأن الطهر المتخلل دون ثلاث وهو لا يفصل اتفاقا كما مر؛ ولو رأت يوما دما وثلاثة طهرا ويومين دما فالستة حيض للاستواء؛ ولو رأت ثلاثة دما وخمسة طهرا ويوما دما فالثلاثة حيض لغلبة الطهر فصار فاصلا والمتقدم أمكن جعله حيضا، هذا خلاصة ما في شروح الهداية وغيرها. وقد صحح قول محمد في المسبوط والمحيط وعليه الفتوى. وفي الهداية الأخذ بقول أبي يوسف أيسر. اهـ وكثير من المتأخرين أفتوا به؛ لأنه أسهل على المفتي والمستفتي سراج، وهو الأولى فتح، وهو قول أبي حنيفة الآخر نهاية. وأما الرواية الثانية؛ ففي البحر قد اختارها أصحاب المتون، لكن لم تصحح في الشروح."

( كتاب الطهارة، باب الحيض، مطلب لو أفتى مفت بشيء من هذه الأقوال في مواضع الضرورة طلبا للتيسير كان حسنا، ١ / ٢٨٩ - ٢٩٠، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101642

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں