بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ماہواری کے ایام سمجھ کر کھا/پی لیا تو روزہ کا حکم


سوال

 ایک عورت نے رمضان میں اس خیال سے پانی پیا کہ مخصوص ایام چل رہے ہیں، پھر معلوم ہوا کہ وہ پاک تھی تو اب اس پر قضاء مع الکفارہ ہے یا صرف قضاءہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں   اگرمذکورہ عورت  نے ماہواری کے ایام کے خیال سے روزے کی نیت ہی نہیں کی تھی ،توایسی صورت میں اس عورت  پر صرف قضاء لازم ہے ،اور اگر مخصوص ایام چل رہے تھے یعنی حیض جاری تھا ،اس لیے اس خیال سے پانی پیا،اور بعد میں معلوم ہوا کہ خون آنا بند ہوگیا تھا ،اور وہ پاک تھی ،تو اس صورت میں بھی قضا لازم ہوگی ،کفارہ نہیں ۔

فتاوی ھندیہ میں ہے:

"(ومنها الحيض والنفاس) ، وإذا حاضت المرأة ونفست أفطرت كذا في الهداية ...الخ."

(كتاب الصوم ،ج:1،ص:207،ط:دار الفكر بيروت)

البحر الرائق میں ہے:

"وفي الخلاصة لو كان له نوبة حمى فأكل قبل أن تظهر يعني في يوم النوبة لا بأس فإن لم يحم فيه كان عليه الكفارة كما لو أفطرت على ظن أنه يوم حيضها فلم تحض كان عليها الكفارة لوجود الإفطار في يوم ليس فيه شبهة الإباحة وهذا إذا أفطر بعدما نوى الصوم وشرع فيه أما لو لم ينو كان عليه القضاء دون الكفارة كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الصوم ،ج:2،ص:303،ط:دار الكتاب الاسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409100783

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں